خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 923 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 923

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۳ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء د بعض چیزیں گھنگے وچ مل جاندیاں نیں زبان کے ذریعہ مزہ چکھنا یا باتیں کرنا ذیلی ہیں اللہ تعالیٰ نے زبان ہمیں اس لئے عطا کی ہے کہ ہم اس کو ذکر الہی کرنے کا ذریعہ بنائیں اور ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہیں اور یہ ایک بڑی نعمت ہے اس لئے کہ جو ذکر زبان سے کیا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتا ہے اور اس کے لئے نہ مال خرچ کرنا پڑتا ہے اور نہ دنیوی اسباب لگانے پڑتے ہیں ، نہ اپنے کاموں کا حرج کرنا پڑتا ہے۔صرف عادت ڈالنے کی بات ہے اس لئے نیکی کی عادت ڈالنی چاہیے ہم اپنی زندگی کا ہر زندہ لمحہ جو سو یا ہوا نہیں ہوتا بلکہ بیدار ہوتا ہے اس کو ہم ذکر الہی میں لگا سکتے ہیں۔پس زبان کی اصل غرض یہ ہے کہ یہ ہمیشہ ذکر الہی میں مشغول رہے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قلب میں رقت طاری ہو جانے کی ایک طاقت و خاصیت رکھی ہے جسے خشوع و خضوع بھی کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے عبادت کرتے وقت اس طاقت کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔بعض لوگ دل کے بڑے سخت ہوتے ہیں اُن پر خشوع و خضوع کی حالت کبھی طاری نہیں ہوتی حالانکہ بعض صوفیاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کے چالیس دنوں میں ایک دن بھی (انہوں نے بڑی ڈھیل دی ہے درحقیقت چالیس کا سوال نہیں اگر کسی کی آنکھ سے روزانہ ) آنسو نہ بہیں تو اسے اپنی فکر کرنی چاہیے وہ ہلاکت اور جہنم کی طرف جا رہا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ بڑا فضل کیا ہے کہ ہمارے دل میں یہ قوت اور طاقت ودیعت کی ہے کہ اس کی یاد میں اور اس کی محبت میں اور اس کی محبتوں کے جلوؤں کی تلاش میں خشوع وخضوع کی حالت پیدا کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کسی کو یہ توفیق ملتی ہے تو اُس کا ہر وہ آنسو جو ریا کے بغیر جو خود نمائی کے بغیر جو محض خدا تعالیٰ کے لئے انسان کی آنکھ سے ٹپکتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے دامنِ رحمت میں جذب کر لیتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے اس میں ریا اور تکبر اور خود نمائی اور خود رائی نہیں ہونی چاہیے۔یہ دو باتیں تو میں نے ضمنا بیان کر دی ہیں میں قرآن کریم کی تفسیر کے سمجھنے کے سلسلہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی اعلیٰ درجہ کی قوت دی ہے اور یہ ہے فکر اور غور کرنے کی قوت اور یہ اس لئے دی ہے کہ ہم قرآن عظیم اور اس قرآن عظیم کی جو تفسیریں پہلے بزرگوں نے کی ہیں اور اب اس زمانے میں جو