خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 922 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 922

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۲ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء لیکن میں جانتا ہوں کہ اس کے باوجود میں تیرے فضلوں کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک تیرا ارادہ ، تیری مدد، تیری نصرت میرے ارادے اور میری کوشش کے شامل حال نہ ہو۔پس اس صورت میں اِيَّاكَ نَسْتَعِین کے دعائیہ الفاظ انسانی تکبر اور غرور اور نخوت کے بھوت کی گردن پر ایک تیز چھری کا کام دیتے ہیں۔اس دعا کے ذریعہ انسانی تکبر اور غرور اور نخوت کے بھوت کا سر کچل دیا جاتا ہے اور انسان تکبر اور غرور نخوت اور خود بینی کے زہر سے ہلاک ہونے سے بچ جاتا ہے کیونکہ انسان کے لئے اس دنیا میں اس زندگی میں ایک ہی موت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے فنا ہو جانے کی موت ہے یہ موت بھی ہے اور ایک لقا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا اور اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے بقا اور زندگی کا حصول ہے۔پس اس وقت جو سب سے بڑی نعمت مجھے نظر آتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ بھی غور کریں تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ سب سے بڑی نعمت جو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قرآن کریم کی تفسیر کے خزانے ہیں کہ جن سے ہم جتنا بھی فائدہ اُٹھا ئیں یہ خزانہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔اس لئے اس خزانے کی قدر کرنا ضروری ہے اور اپنے چھوٹے بڑے ہر قسم کے مسائل کو اس کی روشنی میں سلجھانا ضروری ہے۔اگر ہم اپنی طرف سے اپنی زندگی کے مسائل کو سلجھانا شروع کریں گے تو نا کام ہوں گے۔قرآن کریم کی ہدایت ہی کے ذریعہ انفرادی اور اجتماعی مسائل کا صحیح حل تلاش کیا جاسکتا ہے اس کے بغیر ممکن نہیں غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ہمارے لئے ایک کامل ہدایت نامہ بنایا اور پھر قرآن کریم کی اس کامل ہدایت اور حسین تعلیم کو سمجھنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ایک نہایت ہی اہم چیز یعنی آپ کی تفسیر ہمارے ہاتھ میں دے دی اگر اس کے بعد بھی ہم غافل ہو جا ئیں تو ہم سے بڑھ کر بد قسمت انسان کوئی نہیں ہوگا۔اس لئے میں بار بار جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ایک خزانہ ہے اس کے دروازے کھولو، کتابیں پڑھو اور اُن پر غور کرو۔اللہ تعالیٰ کی ایک عطا مثلاً زبان ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان صرف اس لئے نہیں دی کہ ہم کھانے کی چیزوں کا مزہ چکھیں یا ہم باتیں کریں۔یہ اغراض تو ساتھ ہی حاصل ہو جاتی ہیں جس طرح پنجابی کی ضرب المثل ہے کہ