خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 921 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 921

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۱ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء بتایا گیا ہے کہ پہلے جو کچھ مل چکا ہے اس کی قدر کرو اور اس سے حتی المقدور فائدہ اُٹھاؤ، اپنی قوت اور طاقت کے مطابق اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا دو اور اس کے بعد میرے پاس آؤ اور مجھ سے مانگو، میں تمہیں نئی نعمتیں دوں گا، میں تم پر اپنے فضلوں کے دروازے کھولوں گا۔حضرت مسیح موعود ووو علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ریا اور نمائش کے زہر کا تریاق ہے کیونکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں جتنی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر صرف اس کی رضا کے حصول کے لئے ہیں۔اُس کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کے لئے ہیں۔پس جب انسان اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں اور دوسری ہر قسم کی نعمتوں کا استعمال اور ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش محض اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا اس کو حاصل ہو تو پھر ریا نہیں ہوگا نمائش نہیں ہوگی کسی کو دکھانے کی خواہش نہیں ہو گی۔نمائش کے ذریعہ سے لوگوں کی واہ واہ حاصل کرنے کی خواہش اور ارادہ نہیں ہوگا۔یہ مقام تو فنا کا مقام ہے جب غیر اللہ سے دل تہی ہو جاتا ہے تو اس میں صرف اللہ تعالیٰ کا خیال رہ جاتا ہے جو شخص ہر مخلوق ،شجر ، حجر وغیرہ کو استعمال میں لا کر فائدہ اُٹھا سکتا ہے ہر نعمت کو جو آسمان سے آتی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ذریعہ سے نازل ہوتی ہے اس کو محض اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے اور جو بھی میں نے کرنا ہے وہ خدا تعالیٰ کے لئے کرنا ہے تو پھر انسان کے کسی بھی عمل میں ریا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسے انسان کے کسی بھی کام میں حتی کہ اس کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی ریا کا کوئی دخل ہی نہیں ہوسکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ریا کی بیماریوں کا علاج ہے کیونکہ انسان جب سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ میں نے نہ اپنی کسی قوت پر اور نہ اپنی کسی قابلیت پر بھروسہ کرنا ہے اور نہ ہی دوسری نعمتوں کو خدائی کا درجہ دینا ہے بلکہ سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھنا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا، سب کچھ کر لینے کے بعد اور تدبیر کو انتہا تک پہنچانے کے بعد بھی میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے ہوئے جھکنا ہے اور یہ کہنا ہے کہ میں نے جو کچھ کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے جو کچھ میں کر سکتا تھا یا جو میرے بس میں تھا وہ تو ہو چکا