خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 913
خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۳ خطبہ جمعہ ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء کے زائد روپیہ کوجائز یا نا جائز راہوں پر خرچ کرنے کی مجھے اجازت ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے فرماتا ہے کہ بیشک تو نے اپنی اس ذمہ داری کو نباہا کہ اپنے اور اپنے خاندان کے حقوق کو پورا کیا اور دوسروں کے بھی حقوق کو ادا کیا اور اس ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو گیا مگر ان ساری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد جو تمہارے پاس مال بچ گیا ہے تم اس کو بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ بناؤ اللہ تعالیٰ کے غضب کو مول لینے کا موجب نہ بناؤ کیونکہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے خلاف کام کرو گے تو اس کے نتیجہ میں تمہاری چاروں قسم کی قابلیتیں جن کی تفصیل پہلے خطبات میں بیان ہو چکی ہے کی صحیح اور کامل نشو و نما نہیں ہو سکے گی بلکہ ان کی نشوونما میں روک پیدا ہو جائے گی۔تمہارا اسراف کرنا تمہارا ظلم کرنا تمہارا ر یا کرنا اور تمہارا نمائش کے طور پر اپنے زائد اموال کو خرچ کرنا یہ ساری چیزیں تمہاری قابلیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ نہیں بنیں گی بلکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم بنا دیں گی۔اس لئے اپنے زائد اموال کو اس رنگ میں خرچ کرو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کے غضب کی نگاہ نہ پڑے بلکہ تم پر ہمیشہ اس کی رحمت اور اس کے پیار کی نگاہ پڑتی رہے۔جس عذاب کا سورہ انعام میں ذکر کیا گیا ہے اس کا ایک حصہ تو اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے مثلاً یہی ہے کہ اگر ایک مسلم حکومت کسی کارخانہ دار کو یہ کہے کہ چونکہ تم نے خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اپنے زائد اموال کو خرچ نہیں کیا اس لئے نئے کارخانے لگانے کی تمہیں اجازت نہیں دی جائے گی حکومت کا یہ فیصلہ ہی اس کی طبیعت کے لحاظ سے اس دنیا میں اس کے لئے کافی عذاب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہو کہ اسکو عذاب ہی ملے (اس کے غضب سے ڈرتے رہنا چاہیے ) تو اس سے بھی سخت تر عذاب میں بھی وہ مبتلا کر سکتا ہے کیونکہ اگر ذہنیت یہ ہو کہ جو مال ملا ہے وہ سب اپنے پاس ہی رکھنا ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا ذریعہ نہیں بنانا تو پھر ایک وقت میں آکر اس کے اموال میں زیادتی کے جو راستے ہیں اگر ان کو بند کر دیا جائے تو یہ اس کے لئے ایک بہت بڑا عذاب بن کر رہ جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ حکم دیا ہے کہ جب تم کوئی تدبیر کرو یا کوئی منصوبہ بناؤ اور