خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 901
خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۱ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء یہ کئے گئے ہیں۔میں تمہید ابیان کر دوں کہ اس آیت کے جو معنے پہلے کئے گئے ہیں وہ بھی اپنی جگہ پر صحیح ہیں۔لیکن فَإذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ - (یونس: ۴۸) کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی اُمت کی طرف رسول بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہی عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جاتے ہیں اور حقوق قائم کئے جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسا وجود اور کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ہر جہت سے کامل ہو اور جو ہر علم پر محیط ہو اور اللہ تعالیٰ ہی حق کو قائم کر سکتا ہے۔پس فرما یا فَإِذَا جَاءَ رَسُولُهُمْ قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ -۔(یونس: ۴۸) کا مطلب یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کی حیثیت میں ایک کامل اور مکمل شریعت لے کر آئے تو تمام حقوق کو قائم کرنے اور تمام حقوق کی ادائیگی کے متعلق جو تعلیم تھی وہ بھی اپنے کمال کو پہنچ گئی۔قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ میں پیداوار کی تقسیم کے متعلق ہدایت دی گئی ہے۔جب کوئی منصوبہ بنایا جاتا ہے تو اس کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ایک پہلو ہوتا ہے پیدا کرنا اور دوسرا پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس منصوبہ نے جو پیدا کیا ہے اس کو تقسیم کرنا۔اب مثلاً باوجود اس کے کہ ہماری حکومت اور ہمارے ملک کا یہ منصوبہ بڑا کامیاب ہوا ہے کہ ضرورت کے مطابق اجناس ملک میں پیدا ہو جائیں اور اب ہمارے ملک میں مجموعی لحاظ سے غذا کی کمی نہیں ہے، یعنی مجموعی لحاظ سے جتنا کھانا سارے پاکستانیوں کو ملنا چاہیے تھا وہ پیدا ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود آپکو ملک میں بھو کے نظر آئیں گے اس لئے کہ رزق تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق پیدا ہو گیا لیکن اس کی تقسیم جو انسان نے کرنی تھی وہ صحیح نہیں ہوئی ، اس کے اندر نقص رہ گیا ہے۔اسی نقص کی وجہ سے گو گندم وافر مقدار میں ملک میں موجود ہے مگر پیٹ بھوکے ہیں۔پیٹ خالی ہیں کیونکہ ان پیٹوں تک گندم نہیں پہنچتی۔اس کا انتظام نہیں کیا گیا۔قُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ میں ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب تم کوئی منصوبہ بناؤ تو وہ منصوبہ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں سب کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہو۔اور اگر تم خدائی ہدایت پر عمل کرو گے تو ایسا ہو گا کہ اس کی تقسیم بھی منصفانہ ہوگی اور پھر اس کے بعد کوئی پیٹ بھوکا نہیں رہے گا، کوئی تن نگا نہیں رہے گا۔کوئی خاندان بغیر سایہ کے نہیں رہے