خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 900 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 900

خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۰ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء ہیں جن کے لئے دس سال پہلے تیاری کی جاتی ہے۔مثلاً غذا کا مسئلہ ہی ہے ، پہلے ہمارے ملک میں غذا کی پیداوار میں کمی ہو گئی تھی۔اب ہمارے ملک میں غذا کی پیداوار ضرورت کے مطابق ہوگئی ہے لیکن چونکہ آبادی بڑھ رہی ہے اس لئے منصوبہ بناتے وقت آج ہمیں دس سال بعد کی ضرورت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ورنہ ہم دس سال بعد اپنی ضرورت کو پورا نہیں کر سکیں گے جس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ”حق“ کے معنی میں اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ آئندہ نسلوں کا خیال رکھنا بھی حال کی نسل پر لازم ہے۔بہر حال اسلامی اقتصادی تعلیم کا تقاضا ہے کہ ہر شخص کا حق جو خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے پورا ہو اور پھر جس وقت کے لئے وہ حق قائم کیا گیا ہو اس وقت وہ حق پورا ہو۔یعنی ایک تو یہ ہے کہ آج جو حقوق کسی کے قائم کئے گئے ہیں وہ پورے ہوں لیکن زندگی اور موت ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے کوئی آتا ہے اور کوئی چلا جاتا ہے۔حقوق کے نقشہ میں ہر آن تبدیلی پیدا ہو رہی ہے۔مجموعی طور پر نسل بڑھ رہی ہے اور نسل بڑھنی ہی چاہیے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ہمارے نزدیک اب پھر دنیا میں ایک غلط قسم کا دور شروع ہوا ہے۔جس وقت میں پڑھا کرتا تھا اس سے دس پندرہ سال پہلے انگلستان میں ایک بڑی مہم چلی تھی کہ نسل نہ بڑھائی جائے اور جب ہم پڑھا کرتے تھے اس وقت انہوں نے کہا کہ اگر نسل بڑھنے کی یہی رفتار رہی تو آئندہ سو سال کے بعد کوئی انگریز باقی نہیں رہے گا۔سب انگریز مر چکے ہوں گے۔اس لئے زیادہ بچے پیدا کرو۔انسان چونکہ جاہل ہے ، غیب کی باتوں کا اسے علم نہیں۔اس لئے وہ غلط اندازے کر کے غلط فیصلے کر جاتا ہے۔نسل بہر حال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور وہی رزاق ہے اس لئے ہمیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔لیکن منصوبہ بندی کا جو کام ہے وہ ایک حد تک اور ایک دائرہ کے اندر ، اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد کیا ہے۔اس دائرہ کے اندر جب بھی ہم کوئی منصوبہ بنا ئیں تو اس میں اگلی نسل کا خیال رکھنا ضروری ہے اور پھر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حق کی ادائیگی ہو اور جب بھی کوئی حق پیدا ہو قوم اس کو ادا کرنے کے لئے پہلے سے تیار ہو۔پھر اللہ تعالیٰ کے جو فیصلے ہوتے ہیں وہ عدل و انصاف پر ہوتے ہیں، اس کے دوسرے معنے