خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 896 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 896

خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۶ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء تیسرے یہ فرمایا کہ اعداد و شمار جو ہوں گے ان کے متعلق تمہیں کچھ فیصلے کرنے پڑیں گے مثلاً ایک بنیادی فیصلہ تو یہی ہے کہ دجل سے کام نہیں لینا۔غرض اس کا جو منفی حصہ ہے وہ تو اس پہلے مطالبہ سے تعلق رکھتا ہے کہ اعداد و شمار کے استعمال کے وقت دجل نہیں کرنا ظلم نہیں کرنا ، بے انصافی نہیں کرنی بلکہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ اصول پر منصوبے بنانے چاہئیں اور اعداد و شمار کا جو صحیح استعمال ہے وہی استعمال ہو غلط استعمال نہ ہو۔۷ ۱۹۴ء میں جب باؤنڈری کمیشن بیٹھا تو اس کمیشن کے سامنے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے دجل کیا گیا۔ہندوؤں نے یہ دجل کیا کہ انہوں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے یہ بات پیش کردی که گوضلع گورداسپور کی مجموعی آبادی میں مسلمان زیادہ ہیں لیکن ضلع کی بالغ آبادی میں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور چونکہ ووٹ بالغ آبادی نے دینا ہے اس لئے یہ ضلع بھارت میں شامل ہونا چاہیے۔ہم جب وہاں سے واپس آئے تو ہم سب بہت پریشان تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اگر ہمیں ۱۹۳۵ء کی سنسز ر پورٹ (Census Report)مل جائے کہ اس وقت تک سب سے آخر میں ۱۹۳۵ء میں ہی سنسز (Census) ہوئی تھی اور ایک کیلکولیٹنگ (Calculating Machine) مشین مل جائے جو جلد جلد ضرب اور تقسیم کرتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے راتوں رات ایک ایسا نقشہ تیار کرسکتا ہوں کہ اس سے ضلع گورداسپور کی بالغ آبادی کی صحیح تعداد ( Census) کے اصول کے مطابق معلوم ہو جائے گی۔سنسز (Census) کے متعلق انہوں نے بعض اصول مقرر کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے عمر کے لحاظ سے گروپ بنائے ہوئے ہیں اور ہر گروپ کی وفات کی فی صد انہوں نے مقرر کی ہوئی ہے۔وہ تو ایک سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں لیکن ہم نے ایسی عمر سے یہ کام شروع کرنا تھا کہ انہیں ۱۹۴۷ء میں بلوغت تک پہنچادیں مثلاً انہوں نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ تین سال کی عمر کے بچے چار سال کی عمر کے ہونے تک سو میں سے پچانوے رہ جائیں گے۔پھر چارسال سے پانچ سال کی عمر کے ہونے تک وہ سو میں سے اٹھانوے رہ جائیں گے۔بہر (حال) انہوں نے بعض اسی قسم کے اصول وضع کئے ہوئے ہیں اور ہمیں ہر گروپ کو ضر میں اور تقسیمیں دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کی علیحدہ علیحدہ تعداد