خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 895 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 895

خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۵ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء پہلا اصول حضرت عمر نے یہ قائم کیا کہ یہ سوا کائیاں ( یونٹ ) اس شخص کو مل جانی چاہئیں خواہ وہ کوئی ہو اور اگر زائد اموال بچ جائیں جیسا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کو دیکھتے ہوئے جو بے نفس صحابہ پر کیا گیا تھا انہیں ساری دنیا کے اموال عطا کر دیئے تھے۔قیصر وکسری کے خزانے ان کے قدموں میں لا ڈالے تھے پھر بھی وہ بے نفس رہے۔اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں انہوں نے اپنی زندگی کے دن گزارے۔ان کی ضرورتوں ( ضرورت سے مراد وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔اس سے وہ حق مراد نہیں جو دنیا نے خود مقرر کر لیا ہے ) کو پورا کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے بعد اموال بچ جاتے تھے اور یہ اموال جو بچ جاتے تھے ان کی تقسیم کے لئے بھی حضرت عمرؓ نے بعض اصول وضع کئے تھے جن کی تفصیل میں اس وقت جانے کی ضرورت نہیں۔آپ ان اصول کے مطابق ان اموال کو تقسیم کر دیتے تھے۔بہر حال پہلا مطالبہ جو ہمارے رب نے ہم سے کیا ہے یہ ہے کہ جب تم اعداد وشمار اکٹھے کرو تو وہ اعداد و شمار صحیح ہوں اور پھر جب ان اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر تم کوئی منصوبہ بناؤ ، تو اس بات کا خیال رکھو کہ وہ منصوبہ صرف پنجاب کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہ ہو۔وہ منصوبہ صرف مشرقی پاکستان کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہ ہو۔وہ منصوبہ صرف سندھ کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہ ہو، وہ منصوبہ صرف صوبہ سرحد کو فائدہ پہنچانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ ایک ایسا منصوبہ ہو جس سے ہر پاکستانی شہری کو فائدہ پہنچتا ہو ورنہ تم مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین نہیں ہو گے۔دنیا میں تم چالاکیاں کر کے شاید بعض لوگوں کی نظر میں عزبت بھی حاصل کر لو لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تم صرف اسی وقت عزت حاصل کر سکتے ہو جب تمہارے منصوبے صحیح اعداد و شمار کی بنا پر اس رنگ میں تیار کئے جائیں کہ اعداد و شمار کے استعمال میں دجل نہ ہو ، بے انصافی نہ ہو۔رعا یا جن کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری تم پر عائد کی گئی ہے ان سب کے وہ حقوق جو اللہ تعالیٰ نے قائم کئے ہیں اور جن کی طرف راہنمائی اس شخص یا اس خاندان یا اس خطہ کی قوتیں ، قابلیتیں اور استعداد میں کر رہی ہیں پورے ہو جائیں یعنی سارے پاکستانیوں کے حقوق پورے ہو جائیں۔پھر اگر کچھ بیچ جائے یعنی اگر زائد پیداوار ہو تو اس کے متعلق قرآن کریم نے بعض اور احکام دیئے ہیں ان پر عمل کیا جائے گا۔