خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 851
خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۱ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء اس کو کچھ نظر ہی نہ آئے۔ٹولتا پھر رہا ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کا وہ جلوہ جس کے ساتھ انسانی آنکھ کو باندھ دیا گیا تھاوہ جلوہ وہاں نہیں ہوتا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے یہ حد بندی کی ہے۔تم اس حد بندی سے باہر نہیں نکل سکتے کیونکہ یہ میری تقدیر ہے میں نے اپنی تقدیر کو چلایا ہے اور ہر ایک چیز کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے تم میری اس تقدیر کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتے۔پس اگر زمین کی یہ تعریف ہو کہ زمین اللہ تعالیٰ کی صفات کے مخصوص مجموعہ کا نام ہے یا آثار الصفات کے ایک مخصوص مجموعہ کا نام ہے جس کے ساتھ انسانی طاقتیں، قو تیں اور استعداد میں بندھی ہوئی ہیں اور جن کی پیدائش انسان کے فائدہ کے لئے ہے اور جن کے علاوہ کوئی اور چیز اس کے لئے فائدہ مند نہیں بن سکتی کیونکہ جو کچھ پیدا کیا گیا ہے وہاں اُسے وَاشْكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ کی رُو سے عطا کیا گیا اور ہر وہ چیز جس کی انسان کو ضرورت تھی وہ اس زمین میں پیدا کر دی گئی۔اگر خدا تعالیٰ کی صفات کے ان مخصوص جلوؤں سے ملتے جلتے جلوے اس عالم کے کسی اور حصے میں بھی نظر آنے لگیں پھر تو وہ یہی زمین الارض ہوئی اس میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔لیکن اس الارض کو جن معنوں میں قرآن کریم نے استعمال کیا ہے اِن معنوں کی رُو سے اس قسم کی زمین سے باہر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔فيهَا تَحْيَونَ کی صداقت اہل ہے انسانی زندگی کا مدار صفات باری کے اسی زمینی جلوؤں کے ساتھ وابستہ ہے کیونکہ اس ارض کے باہر یہ زمینی جلوے مفقود ہیں اس لئے اس الارض “ سے باہر زندہ رہنا محال ہے۔ہم ایک لحظہ کے لئے یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ انسان کبھی ایسی دریافت یا اس قسم کی ایجاد کر لے گا جس سے قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو تفسیر فرمائی ہے اس پر اعتراض کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ہمارا مذہب اسلام بڑا پیارا مذہب ہے۔ہماری کتاب قرآن کریم بڑی ہی عظیم اور حکمتوں سے پر کتاب ہے۔دلائل دے کر سمجھاتی ہے ہر چیز کو اس نے کتاب مبین ہونے کی حیثیت میں کھول کر رکھ دیا ہے اور اس کے کتاب مکنون ہونے کی حیثیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ضرورت کے وقت وہ خود اپنے بندوں کو معلم بناتا ہے۔ان کو اس کی حکمتیں سکھا تا اور اس کتاب عظیم سے مخفی رازوں کو