خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 824 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 824

خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۴ خطبه جمعه ۲۹ اگست ۱۹۶۹ء کی زندگی میں اور آپ پر نازل ہونے والی تعلیم میں نظر آتے ہیں۔غرض کتب سابقہ نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے جلوؤں کے متعلق جو تعلیم دی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم ومعرفت پر مشتمل تعلیم کے مقابلے میں بڑی ناقص ہے اس لحاظ سے بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بہت بلند ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ کہلوایا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت کے نتیجہ میں ایک طرف عظمت و جلال الہی کو قائم کروں اور دوسری طرف بنی نوع انسان کی خدمت کرتا رہوں اس وقت دنیا حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ کے ہر دو پہلوؤں کے مظاہرے اور ہر دو جلوؤں کی محتاج ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا تعلق ہے دنیا اس سے ناواقف اور نا آشنا ہے اور وہ چیز جو اس الہی عظمت و جلال کے مقابلہ میں کروڑواں حصہ بھی نہیں ہے بسا اوقات انسان اپنا سر اس کے سامنے جھکا دیتا ہے حالانکہ ہر وہ سر جو خدا تعالیٰ کے آستانہ کے علاوہ کسی اور جگہ جھکتا ہے وہ ہمیں بتا رہا ہوتا ہے کہ دراصل دنیا کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی ضرورت ہے لیکن لوگ آپ کے مقام کو پہچانتے اور اپنی ضرورت کو سمجھتے نہیں۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اسلام میں انسان کے جو حقوق قائم کئے ہیں اُن سے بڑی بے اعتنائی برتی جا رہی ہے انسانی حقوق ادا نہیں ہو رہے ہیں۔دراصل حقوق اور فرائض پہلو بہ پہلو چلتے ہیں اگر ہر انسان اپنے فرض کو پورا کرے تو ہر دوسرے انسان کے حقوق ادا ہو جائیں گے۔اسی لئے قرآن کریم نے حقوق اور فرائض کو متوازی رکھا ہے۔ہر ایک کو فرمایا ہے کہ تم پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور تم میں سے ہر ایک کے کچھ حقوق بھی قائم کئے گئے ہیں جو تمہارا فرض ہے اس کو تم ادا کرو جو تمہارا حق ہے اس کے ملنے کے سامان پیدا ہو جائیں گے۔غرض بنی نوع انسان کا خادم بنا اور بنی نوع انسان کا ہمدردو غم خوار بننا ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔آج اس وقت اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہمیں اس لئے محسوس ہو رہی ہے کہ ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ ساری دنیا میں اقتصادی لحاظ سے انسان پر مختلف دل دہلا دینے والے دباؤ پڑ رہے ہیں اگر