خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 796 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 796

خطبات ناصر جلد دوم ۷۹۶ خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۶۹ء خدا تعالیٰ کے حسن اور اس کے احسان کے جلوؤں کا مشاہدہ کرتا ہے بہر حال بچے کو بچپن کی عمر میں ہی شرک سے اجتناب کی تعلیم دینی چاہیے اور اس کے دل میں توحید حقیقی کو قائم اور راسخ کر دینا چاہیے۔یہ استاد کا کام ہے پھر اس کی جو بھی موجودات ہیں ( موجود حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میں ہی نہیں بلکہ میں نے بہت سی ، بے شمار اور ان گنت مخلوق پیدا کی ہے اور اپنی اس مخلوق کو بعض رشتوں میں باندھ دیا ہے ، تعلقات میں باندھ دیا ہے ) یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کی زنجیر ہے اور جس طرح باپ بیٹے سے اس زنجیر کے ساتھ جکڑ ا ہوا ہے اسی طرح ایک انسان مکھی کے ساتھ بھی جکڑا ہوا ہے وہاں بھی ایک جلوہ ہے جس نے ان کو آپس میں باندھ دیا ہے باریکی میں میں نہیں جاتا آپ جلدی سے سمجھ جائیں گے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اپنی مخلوق میں ایک یہ جلوہ بھی دکھایا ہے کہ میں نے اپنی ہر مخلوق کو انسان کا خادم بنا دیا ہے اب اسی جلوے کے ساتھ ایک مکھی اور انسان ایک ہی زنجیر میں خادم اور مخدوم کی حیثیت میں بندھ گئے۔ہر چیز انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے اور چونکہ ہر چیز انسان کی خادم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مخدوم یعنی انسان سے کہا تو اپنے زور سے مخدوم نہیں بنا اس تسخیر کے نتیجہ میں صرف تیرے حقوق ہی قائم نہیں ہوئے بلکہ اس تسخیر کے نتیجہ میں ہم نے تیری ذمہ داریاں بھی قائم کی ہیں اور تیرا فرض ہے کہ تو ہماری عائد کردہ ذمہ داریوں کی روشنی میں ہر چیز کے ساتھ جو اسی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے ویسا سلوک کرے جو ہم کہتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری مخلوق میری صفات کے جلوؤں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اور اس طرح آپس میں حقوق اور ذمہ داریاں پیدا ہو گئی ہیں اور اس نے انسان کو۔کہا ( اور بچے کے ذہن میں یہ بات آنی چاہیے اور بچہ شاید اس عمر میں زیادہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے ) کہ اگر میری رحمانیت کے جلوے نہ ہوتے تو تمہارا زندہ رہنا اور تمہارا پرورش پاناممکن نہ ہوتا۔بھلا یہ تو بتاؤ کہ اس کے کس حق کے نتیجہ میں جو اس نے اپنے زور سے پیدا کیا ہواس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کے لئے دودھ اُترا۔ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی ہے میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر میں بھی ایک بچہ ایسا پیدا ہوا کہ پیدائش کے وقت اسے کچھ زخم آگئے تھے ڈاکٹر ( جو