خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 797
خطبات ناصر جلد دوم ۷۹۷ خطبه جمعه ۸ /اگست ۱۹۶۹ء ہمارے ماموں ہی تھے ) نے کہا کہ اس بچہ کو پانچ یا سات دن ( مجھے صحیح طور پر یاد نہیں ) چار پائی پر بھی نہ لٹانا اور نہ اس کی ہلاکت یا کسی بڑی سخت بیماری ( مثلاً چاہے وہ زندہ رہے لیکن مفلوج ہو جائے ) کا خطرہ ہے چنانچہ ماں نے ، اس کے عزیزوں نے ، اس سے محبت اور تعلق رکھنے والوں نے کئی دن تک دن اور رات اسے اپنے ہاتھوں پر رکھا۔اب بتائیں اس بچہ نے کون سی کمائی کی تھی جس کی اُجرت اسے مل رہی تھی ؟ کمائی کا تو ابھی اس پر وقت بھی نہیں آیا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھی۔رحمانیت کے یہ جلوے احسان کی شکل میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک بچے کے لئے سب سے زیادہ اس کے ماں باپ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہاں سورہ لقمان میں جو تعلیم دی ہے اور بچوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ دیکھو پیدائش کے دن تم نے رحیمیت کا جلوہ نہیں دیکھا تھا۔تم نے رحمانیت کا جلوہ دیکھا تھا اور رحمانیت کا جلوہ احسان کی شکل میں تمہارے ماں باپ نے دکھایا۔ہر قسم کا احسان رحمانیت کا جلوہ ہے حق سے زائد دینا یا حق نہ ہو اور دے دینا دونوں رحمانیت کے جلوے ہیں بہر حال یہ فرمایا کہ جہاں بھی تمہیں اپنے اوپر احسان نظر آئے تمہارے لئے تو حید کی وجہ سے دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے کہ یہ احسان مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہو نہیں سکتا تھا جب تک کہ خدائے واحد و یگانہ مجھ پر احسان نہ کرنا چاہتا۔اس واسطے شکر کا پہلا حق دار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے بعد شکر کے حق دار وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمانیت کے اظہار کے لئے اپنا آلہ کار بنایا اور چونکہ احسان کا یہ پہلا جلوہ ہمیں ماں باپ کے طرز عمل اور ان کی خدمت میں نظر آتا ہے اس لئے فرما یا وَ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۔(البقرۃ : ۸۴) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کوئی اور محسن ہو تو تم نے اس کے احسان کا بدلہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ الرّحمٰن : ۶۱) کے ماتحت نہیں دینا بلکہ اس لئے کہا کہ جب تم اس دنیا میں پیدا ہوئے تو تم نے خدائے واحد و یگانہ کی رحمانیت کے احسان کا ایک جلوہ دیکھا تھا اور وہ جلوہ تمہیں اپنے والدین کی وساطت سے نظر آیا تھا اس لئے اس پہلے جلوہ کی وجہ سے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنے والدین کے لئے شکر کے جذبات پیدا کرو کیونکہ اگر تم نے رحمانیت کے اس احسان کے پہلے جلوے کا شکر نہ کیا تو تمہیں گندی عادت پڑ جائے گی اور