خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 749 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 749

خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۹ خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۶۹ء دیکھو یہ محنت اور مزدوری تو ایک مصیبت ہے ایک تباہی ہے جو اقتصادی لحاظ سے امرا نے مچارکھی ہے اور اس طرح اس کے دماغ میں یہ ڈال دو کہ یہ جو ہم ایک سبز باغ دکھا رہے ہیں ( کمیونزم یا اشتراکیت وغیرہ اس Existence (زندگی) سے اس کو پیار ہونے لگ جائے کیونکہ یہ نظریہ زندگی بظاہر اس سے کہے گا کہ کام کرنے کی ضرورت نہیں بس ہر چیز مل جائے گی ہر ضرورت پوری ہو جائے گی۔امرا سے چھین چھان کر تمہاری ضرورتیں پوری کر دیں گے۔حالانکہ نہ انہوں نے اس نظریہ پر عمل کیا ہے اور نہ عقلاً کر سکتے ہیں لیکن جب کسی کو احمق بنانا ہو تو جس چیز سے کوئی دوسرا احمق بن جائے احمق بنانے والا وہ چیز اس کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔میں یہ بتا رہا تھا کہ سکتے پن کی عادت ان بنیادی مہلک عادتوں میں سے ہے جو انسان کی زندگی کو ہر لحاظ سے تباہ کر دیتی ہیں اور اس عادت کا اقتصادیات پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے اگر کسی فرد یا خاندان یا قوم کو نکتا بیٹھنے کی عادت ہے تو اس فرد کی اس خاندان کی ، اس قوم کی اقتصادی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔نوجوان نسل کا نکتا پن بھیا نک اور بے آبر ومستقبل کا ضامن ہے۔انگلستان میں اس وقت مصیبت پڑی ہوئی ہے کیونکہ میں نے اوپر جو حوالہ پڑھا ہے وہ ۱۸۲۲ء کا ہے جس سے یہ بات عیاں ہے کہ وہاں خفیہ انجمنوں کی تخریبی کارروائیاں بہت پہلے سے شروع ہیں مجھے (قیام انگلستان کے دوران میں ) احمدی مزدوروں نے بتایا کہ ہم سے یہ انگریز مزدور بڑے ناراض رہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تم اتنا کام کیوں کرتے ہو؟ ہماری طرح نکتا پن کیوں اختیار نہیں کرتے ؟ وہاں کے مزدوروں میں سکتے پن کی عادت کا یہ حال ہے کہ اگر ایک مزدور اپنے نگران سے کہے کہ مجھے پیشاب آیا ہے تو اس کا نگران باوجود یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ بہانہ بنا رہا ہے اسے روک نہیں سکتا ورنہ انگلستان بھر میں ایک ہنگامہ بپا ہو جائے اور لوگ بھڑوں کی طرح پیچھے پڑ جائیں کہ جی اتنا ظلم ! پیشاب کرنے سے روکا گیا ہے لیکن عملاً ہوتا یہ ہے کہ ایک مزدور کہتا ہے میں نے پیشاب کرنے جانا ہے مگر وہ اخبار ہاتھ میں پکڑتا ہے سگریٹ کی ایک ڈبیا جیب میں ڈالتا ہے اور پیشاب کرنے چلا جاتا ہے اور ایک گھنٹہ تک اخبار پڑھ کر اور سگریٹ کی ڈبیا ختم کر کے آرام سے باہر نکل آتا ہے کوئی بھی اسے کچھ کہ نہیں سکتا ور نہ لیبر یونین یا ٹریڈ یونین والے