خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 748
خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء ۷۴۸ cause him to lose him morals" خطبات ناصر جلد دوم کہ دنیا میں ہم جو شرارت اور تباہی مچانا چاہتے ہیں اور جو تخریبی کارروائی کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو اس کے خاندانی بندھنوں سے آزاد کر دیا جائے اور اس کے اندر بداخلاقی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ایک تو یہ ہدایت تھی دوسرے جہاں سے میں نے یہ اقتباس لیا ہے وہاں اس نے پہلے کچھ الفاظ چھوڑے ہوئے ہیں یعنی ڈاٹس (Dots) ڈالے ہوئے ہیں اور ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس خالی جگہ سے اس کی کیا مراد تھی ، وہ لکھتا ہے۔"He loves the long talks of the cafe, the indleness of the shows teach him discreetly to tire of his daily work, and in this way۔۔۔۔after having shown him how tiresome all duties are inculcate in him the desire for another existence۔" یعنی ایک تو اس کے اندر بداخلاقی پیدا کرو اور پھر ایسے حالات پیدا کرو کہ اس کے اندر یہ عادت پیدا ہو جائے کہ وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر یا کلب میں بیٹھ کر یا اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر ( جگہ سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ) چائے یا کافی (Coffee) کی ایک پیالی پر لمبی لمبی گپیں مارنے کا عادی بن جائے اس طرح جب وہ رات کو دیر سے سوئے گا تو صبح دیر سے اور تھکا ہوا اُٹھے گا ، جس کے نتیجہ میں اس کے قومی سو فیصدی صحیح اور نتیجہ خیز کام نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح اس کو سینما، تھئیٹر اور کئی قسم کے دوسرے تماشے دیکھنے کی عادت ڈالو اور بڑی ہوشیاری سے اسے یہ بات ذہن نشین کرا دو کہ یہ روز روز کی مزدوری تو بڑی مصیبت ہے۔“ ایک شخص جس نے سارے خاندان کو پالنا ہے اور قوم بنانی ہے اس کو یہ سکھایا جارہا ہے کہ