خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 747
خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۷ خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۶۹ ء بنیادی طور پر بڑی مہلک ہے۔اور اقتصادیات پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔پیداوار اور پیداوار کی تیاری اس سے شدید متاثر ہوتی ہے۔میں نے طالب علم کی مثال دی ہے اور وہ اقتصادی مثال ہی ہے کیونکہ وہ مستقبل کی پیداوار کی تیاری ہے اگر ہم ٹیکنیشن (Technician) نہیں بنائیں گے اگر ہمارے ہاں انجینئر ز ( Engineers) طالب علم نہیں ہوں گے اگر ڈاکٹر نہیں ہوں گے اگر وکیل نہیں ہوں گے اگر پولی ٹیکنیکس (Polytechnics) میں پڑھنے والے نہیں ہوں گے اور جو ہوں گے وہ وقت ضائع کرنے والے ہوں گے تو ہماری پیداوار کیسے سو فیصد ہوگی۔غرض یہ طالب علمی کا زمانہ اقتصادی پیداوار کی تیاری کا زمانہ ہے یعنی اس نسل نے آگے جا کر اپنے اپنے فن، مہارت اور کوشش کے نتیجہ میں اقتصادی طور پر کچھ پیدا کرنا ہے یا اس نے مادی چیزیں پیدا کرنی ہیں جیسے کارخانوں میں کپڑے بنتے ہیں یا اس نے سروسز (Services) پیدا کرنی ہے۔جیسے ڈاکٹر کی سروس ہے۔وکیل کی سروس ہے۔اقتصادی زبان میں ان سروسز کو کموڈی ٹی (Commodity) بھی کہا جاتا ہے یہ سروسز اقتصادیات کا ایک باقاعدہ حصہ ہیں۔پس اقتصادی میدان میں بھی سکتے پن کا پیدا نہ ہونے دینا ایک اہم اور بنیادی چیز ہے۔اس سکتے پن کی عادت کی اصل محرک اور سب سے بڑا سبب بعض تخریب پسند خفیہ انجمنیں ہیں جس طرح انسان کی پیدائش کے وقت سے شیطان اس کے ساتھ لگا ہوا ہے اسی طرح یہ انجمنیں بھی ہزاروں سال سے تخریبی کام کرتی چلی آرہی ہیں جہاں بھی ان کو موقع ملتا ہے وہ اپنا کام کرتی چلی آرہی ہیں۔اس سلسلہ میں بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں میں صرف ایک مثال دے دیتا ہوں۔وہ بھی پرانی ہے تا کہ کسی کو اپنی طرف خیال نہ چلا جائے۔یہ ۱۸۲۲ء کی بات ہے، ایک خفیہ انجمن کے ایک لیڈر نے جس کا نام Petittiger تھا اپنے ایک ماتحت افسر کو جو کسی دوسری جگہ خفیہ کام کر رہا تھا ایک ہدایت نامہ بھجوایا۔اس ہدایت نامہ کا پہلا حصہ اس نکما پن کی مثال سے تعلق نہیں رکھتا لیکن اس حصہ کو بھی سن لیں تو اچھا ہے شاید یہ کسی وقت میرے بھی اور آپ کے بھی کام آجائے۔وہ لکھتا ہے۔"It is essential to isolate the man from his family and