خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 745
خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۵ خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۶۹ء میں محمد ہوں انہیں ہلاکت کی طرف لے جانے والی نہ ہوں۔انسان کو نیکی اور بدی کی اجازت و اختیار کے نتیجہ میں اس کے اندر اچھی اور بڑی ہر دو قسم کی عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں بُری عادت سے بچنا اور نیک عادات پیدا کرنا حقیقی اور سچی عبادت کے لئے ضروری ہے۔ایک بہت بری عادت جسے بعض مخفی ایسوسی ایشنز (Associations) نے بعض اوقات میں بعض جگہوں پر جان بوجھ کر ان لوگوں کو تباہ کرنے کے لئے جن کو وہ اپنا مخالف سمجھتی تھیں یا جن کو تباہ کرنے میں وہ اپنا فائدہ دیکھتی تھیں اس قسم کی عادت پیدا کرنے کے لئے کوشش کی ہے۔یہ نکتا پن کی عادت تھی۔میرے نزدیک سکتے پن کی تعریف یہ ہے کہ انسان کے قومی پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا جتنا بوجھ وہ اپنی نشو و نما کے اس مخصوص دور میں برداشت کر سکتا ہے۔یہ بوجھ بتدریج بڑھتے چلے جاتے ہیں ممکن ہے بعض قسم کے بوجھ آخری عمر میں گھٹتے ہی چلے جائیں۔لیکن بہر حال جسمانی طور پر (روحانی طور پر تو وہ نہیں گھٹتے ) نشو نما کے ابتدائی دور میں یہ بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن کسی کا اپنی قوت اور قابلیت پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا جتنا وہ نشو ونما کے اس دور میں یا اس مخصوص وقت میں برداشت کر سکتا تھا یہ نکما پن ہے۔بوجھ کا ایک حصہ وقت سے تعلق رکھتا ہے کہ اتنا وقت کام کرو۔اب یہ تو درست ہے کہ ہر آدمی کے کام کی نوعیت مختلف ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر کام کے لئے اس کو ایک طاقت دی ہے۔پس جتنا زیادہ سے زیادہ بوجھ وہ برداشت کر سکتا ہو (اپنے وہم کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت کے نتیجہ میں ) اتنا وقت اپنے کام میں خرچ کرنا چاہیے۔اگر وہ اتنا وقت خرچ نہیں کرے گا تو وہ اس کام میں زیادہ قوت لگا نہیں سکے گا۔دنیا کے کاموں میں تو شاید ہم ٹھہر جائیں۔لیکن روحانی طور پر تو اوقات بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔انسان کسی اور رنگ میں کسی اور طرف سے کچھ بچاتا ہے اور ادھر دے دیتا ہے۔پس نکتا پن ایک نہایت ہی مہلک چیز ہے یہ عادت روحانی لحاظ سے بھی ، اخلاقی لحاظ سے بھی اور ( ہم چونکہ اس وقت اقتصادیات کی بات کر رہے ہیں اس لئے ) اقتصادی لحاظ سے بھی بڑی ہی مہلک ہے فرض کریں ہم نے کسی چیز کی پیداوار معلوم کرنے کے لئے سال یونٹ مقرر کیا ہے اس اعتبار سے کسی فرد یا خاندان یا ملک کی سال کی مجموعی پیداوار اس کی دولت متصور ہوگی یہ کاغذ پر