خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 744 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 744

خطبات ناصر جلد دوم ۷۴۴ خطبہ جمعہ ۱۸ / جولائی ۱۹۶۹ء روحانی لحاظ سے مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو مخلصین کی جماعت ملی تھی جماعت احمدیہ میں داخل ہونے سے قبل انہیں خدا تعالیٰ اور اسلام کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قیام کے لئے ایک آنہ خرچ کرنے کی بھی عادت نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو مالی قربانی دینے کی عادت ڈالنی شروع کی۔ابتدا میں بعض لوگوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں ایک چوٹی دی اور آپ نے ان کا نام اپنی کتاب میں لکھ دیا چنانچہ اب قیامت تک ان کی وہ قربانی یا درکھی جائے گی۔شاید نی نسل یہ پڑھ کر حیران ہو کہ اس سے زیادہ تو اطفال اپنے جیب خرچ میں سے بچا کر دے دیتے ہیں اس لئے کیوں اس وقت کی قربانی کو اتنی اہمیت دی گئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں ان کا ذکر کر کے ان لوگوں کو ایک ابدی زندگی عطا کی جس کے نتیجہ میں قیامت تک ان کی نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی اور ان پر درود بھیجتی رہیں گی۔دراصل یہ اہمیت اس لئے دی گئی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دھیلا خرچ کرنے کی بھی عادت نہیں تھی ان کے لئے تو چوٹی بھی بڑی چیز تھی اور پھر یہی لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد زندگی دی اور جن کے لئے ان کی صحیح تربیت کے نتیجہ میں صحیح عادتیں پیدا ہو جانے کی وجہ سے رفعتوں کا حصول بڑا آسان ہو گیا تھا۔انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں پر قربانیاں دیں۔مگر خدا تعالیٰ اور اس کے بندے پر احسان نہیں جتا یا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم فضل سمجھا۔غرض انسان کی صحیح نشو و نما کے لئے عادت ایک بڑی ضروری چیز ہے۔پہلوان جب ڈنڈ پہلتے ہیں تو وہ اپنے شاگردوں کو کہتے ہیں کہ پہلے پانچ ڈنڈ نکالو اور پھر دس ہیں دفعہ غرض جوں جوں جسم کو ان کی عادت پڑتی جاتی ہے توں توں ڈنڈ پیلنے کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس سے ہمیں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ کسی موقع پر بھی یہ نہ سمجھ لینا کہ اس وقت تمہاری قوتوں کی جو حالت ہے وہ اس کا کمال ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ۔( البينة :) کہ تم میں ہر عادت جو پیدا ہو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے ماتحت ہو۔فرمانِ الہی کے ماتحت ہوانسان کو بحیثیت انسان مختلف قسم کی جو قو تیں اور قابلیتیں عطا کی گئی ہیں اس کی عادات ان کی نشو ونما