خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 723 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 723

خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۳ خطبہ جمعہ ۴/ جولائی ۱۹۶۹ء یہ ہے کہ جب احمدی تمہارا جنازہ نہ پڑھیں تو وہ گناہگار نہیں ہوتے کیونکہ دوسروں نے پڑھ لیا ہے پس کیا تمہارا اعتراض اس بات پر ہے کہ وہ گناہگار کیوں نہیں ہوئے یہ تو کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسی جگہ ہوا گر چہ ایسا شاذ ہی ہوگا ممکن ہے بیس یا پچاس سال میں جا کر ایسے حالات پیدا ہوں کہ جہاں کسی غیر معروف مسلمان کا جنازہ ہو اور سوائے احمدیوں کے کوئی اس کی نماز جنازہ پڑھنے والا نہ ہو تو ان کا فرض ہے کہ وہ اس نامعلوم شخص کی نماز جنازہ پڑھیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے کسی شخص کو ہم لاوارث نہیں چھوڑ سکتے۔ہمارے دل میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیار ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ ہر وہ شخص جو آپ کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ لاوارث نہیں سمجھا جا سکتا اگر چہ ہمارے نزدیک ایسے لوگ وہ اپنی زندگی میں سخت غلطی کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حکموں کی نافرمانی کر رہے ہیں لیکن یہ باتیں اپنی جگہ ہیں ان میں سے اگر کوئی شخص اس حالت میں ہو زندہ ہو یا مردہ یعنی وہ لاوارث قرار دیا گیا ہو تو ہم اس کو لاوارث نہیں رہنے دیں گے ایسی صورت میں ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اس کی ہر ممکن مدد کرے اور اگر وہ کسمپرسی کی حالت میں فوت ہو گیا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھے۔اسی طرح دنیا کو یہ بتا دینا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے لاوارث نہیں ہو سکتے اسی طرح اور اس سے بڑھ کر دنیا کو یہ احساس دلانا بھی ہمارا فرض ہے کہ رَبُّ الْعلمین کی طرف منسوب ہونے والے بھی لاوارث نہیں ہیں اگر وہ بھوکے ہیں تو ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ان کی بھوک کو دور کرے اگر وہ ننگے ہیں تو ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ان کے ننگ کو ڈھانکنے کا انتظام کرے پھر ایسے لوگوں کے بعض ہو نہار بچے ہوتے ہیں اگر احمدی انفرادی یا اجتماعی یا جماعتی طور پر ان کے پڑھانے کا انتظام کر سکتے ہوں تو یہ بات بھی بہترین اخلاق کی مظہر ہے۔میں ٹی ، آئی کالج کا پرنسپل رہا ہوں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بالکل معین اور واضح ہدایت دے رکھی تھی کہ اس کا لج کو چلانے اور اس پر روپیہ خرچ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قوم کو تعلیم دلائی جائے یہ تبلیغ کا ادارہ نہیں ہے بلکہ تعلیم کا ادارہ ہے۔اس لئے بسا اوقات ہم بعض