خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 710 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 710

خطبات ناصر جلد دوم 210 خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء تھا کہ خدا کا رنگ اپنے اوپر چڑھایا جائے۔اس کی رو سے اسلام کا اقتصادی نظام یہ فرض عائد کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی امہات الصفات ہیں مثلاً اس کا رب ہونا، رحمن کا ہونا، رحیم ہونا اور مالک ہونا، ان کی ظلیت کے طور پر (یعنی بطور ظل کے ) یہی صفات ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں ظاہر کرنی چاہئیں اور اسی طرح اقتصادی زندگی میں بھی۔کیونکہ وہ بھی ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے اس کو باہر نہیں رکھا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بڑے زور سے اپنی جماعت کو یہ نصیحت بھی فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔"جو شخص۔ہماری جماعت میں داخل ہو جائے اس کا پہلا فرض یہی ہے کہ یہی چاروں صفتیں (سورۂ فاتحہ والی ) اپنے اندر بھی قائم کرے۔ورنہ وہ اس دعا میں کہ اسی سورۃ میں پنجوقت اپنی نماز میں کہتا ہے کہ ايَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اے ان چار صفتوں والے اللہ میں تیرا ہی پرستار ہوں اور تو ہی مجھے پسند آیا ہے سراسر جھوٹا ہے کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مرتی بننا اور ادنیٰ سے ادنی جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بے بہرہ نہ رکھنا یہ ایک ایسا امر ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کا دعویٰ کرنے والا خدا کی اس صفت کو محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کو پسند کرتا ہے یہاں تک کہ کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے تو ضروری ہوتا ہے کہ وہ آپ بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر حاصل کر لے تا اپنے محبت کے رنگ میں آجائے۔ایسا ہی خدا کی رحمانیت یعنی بغیر عوض کسی خدمت کے مخلوق پر رحم کرنا یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جس کو یہ دعویٰ ہے کہ میں خدا کے نقش قدم پر چلتا ہوں ضرور یہ خُلق بھی اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ایسا ہی خدا کی رحیمیت یعنی کسی کے نیک کام میں اس کام کی تکمیل کے لئے مدد کرنا۔یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ سچا عابد جو خدائی صفات کا عاشق ہے اس صفت کو اپنے اندر حاصل کرتا ہے۔ایسا ہی خدا کا انصاف جس نے ہر ایک حکم عدالت کے تقاضا سے دیا ہے نہ نفس کے جوش سے، یہ بھی ایک ایسی صفت ہے کہ سچا عابد کہ جو تمام الہی صفات اپنے اندر لینا