خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 697
خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۷ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء یه توحید ہمیں دنیا میں مختلف شکلوں میں نظر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورہ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جہاں تک انسانی زندگی کا تعلق ہے تو حید خالص کے چھ جلوے ہمیں نظر آتے ہیں۔آپ کا یہ بیان کردہ مضمون الحکم میں چھپا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ توحید پہلے دو قسموں میں منقسم ہوتی ہے۔ایک کو تو ہم تو حید علمی کہتے ہیں اور دوسری کو ہم توحید عملی کہتے ہیں۔پھر ہر دو قسم کی توحید ایسی ہے جس کا تعلق ایک تو حقوق اللہ سے ہے دوسرے حقوق نفس سے ہے اور تیسرے حقوق العباد سے ہے۔پس دونوں قسم کی توحید کے چھ جلوے ہمیں نظر آتے ہیں علمی تو حید کے معنے یہ ہیں کہ وہ حقیقی تو حید جو علم سے حاصل کی جاسکتی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی صفات بیان کیں اپنی وحدت کے، اپنے احد ہونے کے دلائل دیئے اور آسمانی نشانوں سے بھی ثابت کیا کہ میں ہی اکیلا سب قدرتوں کا مالک اور سب فیوض کا سر چشمہ اور سب انوار کا مرکزی نقطہ ہوں۔بہر حال علمی تو حید وہ ہے جو علم سے حاصل کی جاتی ہے اور عملی تو حید وہ ہے جو عمل سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیان کردہ مضمون اپنے الفاظ میں بیان کروں گا۔جہاں تک اللہ تعالیٰ اور اس کے حقوق کا تعلق ہے تو حید علمی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حقوق کو شناخت کیا جائے۔ان کا عرفان اور معرفت حاصل کی جائے یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک جاننا اور اسے مبرا ہر ایک فیض کا اور جامع تمام خوبیوں کا اور مرجع و مآب ہر ایک چیز کا سمجھنا اور اسے ہر عیب اور نقص اور کوتاہی سے پاک جاننا۔کیونکہ وہ تمام صفات کا ملہ کا جامع ہے اور معبود حقیقتا وہی ہے وہی اس بات کا سزاوار ہے کہ انسان کا معبود بنے۔پس جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا سوال ہے توحید علمی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت کو حاصل کیا جائے۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں توحید عملی یہ ہے کہ اس کی اطاعت اخلاص سے بجالا نا اور اطاعت میں کسی غیر کو شریک نہ ٹھہرا نا مثلاً جب بھی یہ سوال پیدا ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے اور سرمایہ داری یہ کہتی ہے تو اطاعت اللہ تعالیٰ کی ہو سرمایہ داری کی نہ ہو یا مثلاً یہ سوال ہو کہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے اور باپ یہ کہتا