خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 696
خطبات ناصر جلد دوم ۶۹۶ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء اعلان کیا ہے کہ اسلام جو اقتصادی نظام دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے وہ انسان کے بنائے ہوئے ہر قسم کے اقتصادی نظام کی نسبت بہتر اور ارفع اور اعلیٰ اور احسن ہے۔اس کے بعد عبادت کے ان گیارہ تقاضوں کو اسلام کا اقتصادی نظام کس طرح اور کیسے پورا کرتا ہے۔مضمون کے اس حصہ کے متعلق اس وقت میں بیان کر رہا ہوں۔ایک خطبہ اس پر پہلے ہو چکا ہے۔آج میں عبادت کے تیسرے تقاضے کو لیتا ہوں۔عبادت کا تیسرا تقاضا جو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ دین کے معنی سیرت اور خلق کے بھی ہوتے ہیں۔الدين السيرة ، یعنی سیرت کو عربی زبان میں دین بھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ پیدا ہونا چاہیے۔اگر تمہارے اخلاق اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر نہیں رکھتے تو تم عبادت کے تقاضا کو پورا نہیں کر سکتے اور زندگی کے ہر شعبہ میں جو یہ مقصد تھا کہ حقیقی تو حید کو قائم کیا جائے اس مقصد کو تم حاصل نہیں کر سکتے۔اس موقع پر میں ایک اور بات ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے ایک حصہ کا تو آج کے مضمون کے ساتھ براہ راست تعلق ہے یعنی جو تخلُقُ بِأَخْلَاقِ اللَّهِ يَا فَنَا فِي أَخْلَاقِ اللَّهِ کا فقرہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔لیکن اس کے جو دوسرے حصے ہیں ان کا تعلق بھی ان گیارہ تقاضوں کے ساتھ ہے۔نیز جس رنگ میں وہ اسلام کے اقتصادی نظام میں جلوہ گر ہیں ان کے ساتھ ہے اور وہ مضمون یہ ہے کہ ان عالمین یا اسUniverse یا جو بھی مخلوق ہے خواہ وہ ہمارے علم میں ہو یا نہ ہو یا ہمارا تخیل اور تصور وہاں تک پہنچ سکے یا نہ پہنچ سکے بہر حال جو بھی مخلوق ہے جو چیز بھی موجود ہے ساری کی ساری اس بنیاد پر قائم ، موجود اور زندہ ہے کہ خدائے واحد سب کا پیدا کرنے والا اور ساری قوتوں اور استعدادوں کا بخشنے والا ہے یعنی تو حید حقیقی اور توحید خالص ایک خالص حقیقت ہے باقی سارے حقائق نسبتی ہیں مگر یہ ایک زندہ اور ہمیشہ رہنے والی اور پختہ بات ہے اس میں کوئی شبہ نہیں، کوئی تبدیلی نہیں۔اس سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا دنیا کی حیات اور بقا اس حقیقت پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ کامل ہے اس میں کو ئی نقص نہیں۔