خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 58
خطبات ناصر جلد دوم ۵۸ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے خلفاء کی سنت کی بھی اتباع کرو اس لئے ہمارے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم آپ کی محبت سے مجبور ہو کر آپ کے فرمان کے مطابق آپ کے خلفاء سے تعلق رکھیں اور ان سے محبت کا رشتہ قائم کریں اور ان کی سنت کی بھی اتباع کرنے کی کوشش کریں ورنہ اندھیروں کی موت ہمارے نصیب میں ہو گی اور جو شخص ایسا نہیں کرتا وہ اندھیرے میں ہے اسے اپنی فکر کرنی چاہیے۔اصل بات یہ ہے کہ نجات کے حصول کا ذریعہ قرآن کریم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ساتھ انتہائی محبت رکھنا بتایا ہے اگر ہم اس دنیا میں نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ موقوف ہے کامل معرفت پر اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ معرفت ( کامل معرفت جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا حقیقی خوف اور اس کے لئے حقیقی محبت کو قائم کرتی اور اس کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرتی ہے ) تم حاصل نہیں کر سکتے جب تک ایک نمونہ جو کامل اور مکمل اور اعلیٰ ہے تمہارے سامنے نہ رکھا جائے وہ نمونہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے سامنے رکھا گیا ہے اس نمونہ کو سامنے رکھو اس کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو اور کسی صورت میں بھی اس کی اتباع سے باہر نہ نکلو جو وہ کہتا ہے وہ کرو جس رنگ میں وہ عبادت بجالانے کے طریق بتاتا ہے اور جس طور پر وہ مخلوق کے ساتھ ہمدردی یا محسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے اس پر عمل کرو ہر چھوٹی اور بڑی بات میں بہر حال تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنی ہے۔پس ایک احمدی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس خوشحالی کو حاصل کریں جس کے نتیجہ میں دائگی مسرت اور دائمی خوشیاں ملتی ہیں اور جس کی بھوک اور پیاس اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت کو لگا دی ہے اور جس کے لئے عرفان کا حصول ضروری ہے ایسی معرفت جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات ( جلالی بھی اور جمالی بھی ) انسان پر جلوہ گر ہوتی ہیں جس کے بعد انسان کا دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے یہ خوف کہ کہیں وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے کیونکہ ہم اس کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتے اور جس کے نتیجہ میں ہمارا دل اس کی محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔وہ محبت جو ہر غیر سے ہمیں بے نیاز کر دیتی ہے غیر اللہ کے ساتھ محبت یا ان کے