خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 57
خطبات ناصر جلد دوم ۵۷ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء اس نجات کے حصول کے لئے کسی اور کے خون یا کسی اور کو صلیب پر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔اپنے نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔نہ کو ئی خون تمہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔سوائے اس خون کے جو یقین کی غذا سے خود تمہارے اندر پیدا ہو۔“ اور حقیقت یہ ہے کہ جب یہ خون ہمارے اندر پیدا ہو جائے اور عرفان کو ہم حاصل کر لیں تو پھر عصیان ہمارے دل کے اندر داخل نہیں ہو سکتا سب گند دور ہو جاتے ہیں سب خوشیاں حاصل ہو جاتی ہیں سب پاکیز گیاں اس گھر کا حصہ بن جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور نعمتوں کے جلوے انسان اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے۔پس نجات کے لئے معرفت کا حصول ضروری ہے اور معرفت کے حصول کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور محبت کو بتایا ہے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ آپ کی ہر حرکت اور آپ کے ہر سکون کو نقل کرنے کی خواہش ہر وقت دل میں موجزن رہے یعنی اتباع اسوۂ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کے لئے انسان تیار ہو جائے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان یہ بھی ہے ( گوہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے ہی احکام کی اتباع کرنی ہے ) کہ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفُ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ“ دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے۔اگر کسی سے رشتہ محبت قائم رکھنا ہم پر واجب ہے تو صرف اس لئے صرف اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیار کے ساتھ اپنے اس فرزند جلیل کا ذکر فرمایا جو اس آخری زمانہ میں دنیا کی طرف مبعوث ہونے والا تھا آپ کے اس محبت کے اظہار کی وجہ سے ہمارے دل بھی اس عظیم فرزند کے لئے محبت کے جذبات پاتے ہیں اور بڑے شدید جذبات پاتے ہیں اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں بھی اپنے اس فرزند کے لئے ہم عظیم محبت کے جذبات دیکھتے ہیں۔