خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 678 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 678

خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۸ خطبہ جمعہ ۱۳ / جون ۱۹۶۹ء چوتھے معنی رب کے یہ ہیں کہ جس نے ان قوتوں کو زوال سے بچانے اور ہلاکت سے محفوظ رکھنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی انہیں پیدا کیا۔پانچویں یہ کہ جس نے حقیقی اور کمال نشو ونما کے سامان پیدا کئے اور ان صفات کی وجہ سے اسلام کا اقتصادی نظام بہت سے حقوق قائم کرتا ہے۔وہ پہلا حق یہ قائم کرتا ہے کہ ہر فرد بشر کو اپنے دائرہ استعداد میں اپنی روحانی اخلاقی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو نشوو نما تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ چونکہ رَبُّ الْعَلَمِينَ نے اس کے لئے پیدا کی ہے اس لئے یہ اس کا حق ہے کہ وہ چیز اسے ملے بطور حق کے نہ بطور احسان اور صدقہ و خیرات کے۔دوسری اصولی بات جو ہمارے سامنے آتی ہے یہ ہے کہ ہر ایسا مطالبہ جو انسان کی جسمانی ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں میں خلل پیدا کرنے والا اور ہلاکت کی طرف لے جانے والا ہے وہ حق نہیں باطل ہے اس لئے رڈ کر دیا جائے گا مثلاً یورپین اقوام کے عوام بعض دفعہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں شراب اتنی نہیں ملتی جتنی ہم پینا چاہتے ہیں یا سور کی چربی امیروں کو میٹر ہے اور ہم بیچارے غریب اس سے محروم ہیں۔یہ فقرہ میں نے اس لئے بولا ہے کہ جب میں آکسفورڈ گیا تو مجھے یہ خیال تھا کہ کہیں کالج والے مجھے غلط قسم کے کھانے نہ دیں چنانچہ میں پہلے ہی دن باورچی خانہ میں گیا جو بہت بڑا تھا اور سب سے بڑے باورچی سے جا کر کہا کہ ایک تو میں گوشت نہیں کھاؤں گا کیونکہ وہاں ذبیحہ نہیں ملتا تھا اور دوسرے تم جو مچھلی اور انڈا میرے لئے پکاؤ اس کو چربی میں نہ پکانا، مکھن میں رکا نا وہ باورچی مسکرایا اور کہنے لگا غریب طالب علم یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں وہ سور کی چربی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے یعنی ان کی مالی حالت ہی ایسی نہیں ہوتی کہ ہم ان کے لئے سور کی چربی خرید کر کھانا پکا ئیں اور ان سے پیسے لیں اگر ان حالات کو دیکھ کر غریب یہ کہے کہ سور کی چربی یا گوشت ہمیں بھی ملنا چاہیے تو اسلام کا اقتصادی نظام حرام چیز نہ صرف اس کو نہیں دے گا بلکہ جو امیر ہے اس کو بھی وہ حرام چیز نہیں دے گا۔پھر دل بہلاوے کے لئے دنیا میں مجوئے کی قسم کی بیبیوں کھیلیں بنائی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں کروڑوں اربوں روپیہ غریب کا امیر کی