خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 669
خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۹ خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۶۹ء ارتقا اور زیادہ سے زیادہ قرب الہی کے حصول کے سامان پیدا کر دیے۔اگر یہ تفاوت نہ ہوتا ایک شخص کے اندرا نتظامی قابلیت اور تجارتی میلان طبع نہ ہوتا، تجارت کی سوجھ بوجھ نہ ہوتی تو وہ کروڑ پتی نہ بنتا اس کو کہا کہ تو اپنی قوت کو نشو و نما دے اور جائز ذرائع سے جتنا کما سکتا ہے کما۔جب اس نے کما لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا کہ جو ہم نے تمہیں کمانے کی قوت دی تھی اور تجارت کی سوجھ بوجھ عطا کی تھی اس کے نتیجہ میں تم نے پانچ کروڑ روپیہ کمالیا لیکن اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ پانچ کروڑ روپیہ تمہارا نہیں کیونکہ اس میں سے تین کروڑ روپیہ وہ ہے جس کا تعلق تیرے بھائیوں کے ساتھ ہے وہ اس سے فائدہ حاصل کریں گے اس واسطے 3/5 ان کو دے دے۔تقسیم پیداوار کے جو اصول ہیں وہ اسی بنیاد پر بنائے گئے ہیں کہ ہر انسان کی ضرورت (اس وسیع معنے میں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ) پوری ہونی چاہیے جائز ضرورت ہو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی چیز نہ ہو۔اللہ تعالیٰ سے بغاوت کے آثار نہ ہوں اس میں خالص اطاعت ہو اور جتنی ضرورتیں ہیں روحانی جسمانی وغیرہ ان کے سامان ہوں ( آگے اس کی بڑی لمبی تفصیل ہے لیکن ہر ضرورت پوری ہونی چاہیے۔اگر اس کی قوت اور استعدادائیسی بنائی کہ وہ اس معاشرے کو حسین بنانے میں تو کامیاب ہوا لیکن اپنی اور اپنے بچوں کی اور اپنے Dependents (زیر کفالت افراد ) کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو خدا تعالیٰ نے اسے کہا کہ تم گھبراؤ نہیں یہ تفاوت جو آپس میں رکھا گیا ہے اس کے نتیجہ میں تیری ضرورت کی اشیا ہم نے دوسرے کے گھر میں اس کی قوتوں کی وجہ سے بھیج دی ہیں لیکن سے یہ حکم دیا ہے کہ وہ تیرے گھر واپس کرے۔پس اس طرح ایک امن کا معاشرہ قائم ہو جاتا ہے۔پھر رب العلمین کی صفت کے نتیجہ میں جو اقتصادی نظام قائم ہوا اس میں نسل کا یا قوم کا یا مذہب کا کوئی دخل نہیں رکھا گیا کیونکہ ربوبیت عالمین کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مخلوق کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔اس مخلوق میں سے مثلاً کوئی ابو جہل بن جاتا ہے۔پس اس کی اقتصادی ضرورتیں تو بہر حال پوری ہونی چاہئیں کیونکہ رب العلمین نے اسے پیدا کیا اور اس کی ضرورتوں کو بھی پیدا کیا