خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء ہے وہ اس کے قریب نہیں جاتا وہ اس سے ایک قطرہ بھی پینے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس طرح ہر اس چیز سے انسان بچتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ پایا جاتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے گناہ سے کلی نجات اسے حاصل ہوجاتی ہے۔اور جب وہ اپنے رب کا پیار دیکھتا ہے وہ پیار جو اسے اپنی ماں اور باپ سے بھی نہیں ملا تھا اور وہ پیار جو دنیا کا کوئی پیار کرنے والا شخص یا اشخاص اسے نہیں دے سکتے تو بس وہ اسی پر فدا ہو جاتا ہے اور اس کی اپنی کوئی مرضی باقی نہیں رہتی وہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو جاتا ہے غرض نجات کا تعلق صرف اُخروی زندگی کے ساتھ نہیں، نجات اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے اور اُخروی زندگی میں بھی کسی وقت ختم نہیں ہوتی یعنی اس کی ابتدا تو ہے مگر اس کی انتہا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک ابدی زندگی اپنے بندوں کے لئے اس دنیا میں مقدر کی ہوئی ہے پس یہ سمجھنا کہ نجات ہمیں دوسری دنیا میں مل جائے گی لیکن اس دنیا میں اس کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوں گے یہ حماقت ہے اسی دنیا میں انسان نجات حاصل کرتا ہے اس دنیا میں وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو کچھ اس طرح سے پہچان لیا ہے کہ وہ اس کی ناراضگی کو ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا اور کچھ اس طرح اس نے اس کی معرفت حاصل کر لی ہے اس کے جمال اور اس کے حسن کو دیکھ لیا ہے کہ وہ اپنی ہر چیز بلکہ اپنے نفس کو بھی اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہے اور اسی میں اس کی ساری لذت ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک ذاتی محبت اور پیار اس پاک اور اعلیٰ اور عظیم ہستی کے ساتھ اسے ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ اس محبت میں ہی اپنی جنت کو پاتا ہے کسی انعام اور ثواب کا خواہش مند نہیں ہوتا۔اس دنیا میں ہر قسم کی تلخیاں اس محبوب کے لئے برداشت کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور اس دنیا میں یعنی اُخروی دنیا میں بھی کسی اور ثواب کی وہ خواہش نہیں رکھتا سوائے اس ثواب کے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے جلوے ہر آن اس پر جلوہ گر ہوتے رہیں غرض نجات اس دنیا ہی میں مل جاتی ہے اور اس نجات کے حصول کے لئے انتہائی قربانیاں اور انتہائی مجاہدات کرنے ہمارے لئے ضروری ہیں اور ہمارے ہی فائدہ کے لئے ہیں