خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 54 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 54

خطبات ناصر جلد دوم ۵۴ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء اور انہیں حاصل نہیں ہوتی میں اسلام لایا تو اسلام کی حسین تعلیم کے نتیجہ میں میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ مجھے ساری دنیا کی خوشیاں حاصل ہو گئی ہیں یعنی وہ فطرتی آواز جس کو اسلام لانے سے قبل وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتے تھے اسے انہوں نے سمجھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے اس کا دل اس تصور کی وجہ سے لبریز ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام لانے کی جو توفیق دی ہے اس کے نتیجہ میں فطرت کا یہ تقاضہ کہ مجھے خوشحالی ہر وقت نصیب رہے پورا ہو گیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔انسان نے مال اور دولت اور مادی ترقی میں خوشحالی کی تلاش کی۔مادی لحاظ سے ترقیات تو اس نے بہت حاصل کر لیں ، بڑے مالدار بھی ہو گئے لیکن خوشحالی اسے نصیب نہیں ہوئی۔امریکہ ہے، روس ہے، یورپ کی اقوام ہیں مادی لحاظ سے وہ بڑی ترقی یافتہ ہیں بڑی امیر قو میں ہیں ہر قسم کی مادی اور جسمانی سہولتیں انہیں حاصل ہیں ہم میں سے اکثر ان کا تصور بھی یہاں نہیں کر سکتے۔لیکن پھر بھی ان کے دل خوش نہیں اور یہ احساس ان کے اندر پایا جاتا ہے کہ وہ مقصد جسے ہماری فطرت، جسے ہمارے نفس حاصل کرنا چاہتے تھے وہ ہمیں حاصل نہیں ہوا۔سیاسی اقتدار اور دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کی بھی انسان نے کوشش کی اور اس میں اپنی خوشحالی کو سمجھا لیکن امریکہ ہی کو دیکھ لو سیاسی اقتدار اور غلبہ کے نتیجہ میں اس قوم نے خوشحالی تو کیا حاصل کرنی تھی ہزاروں کی تعداد میں اپنے بچوں کو دنیا کے مختلف خطوں میں مروا رہے ہیں اور جو چیزیں وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ انہیں حاصل نہیں ہورہیں۔غرض انسان کی فطرت کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ رکھا ہے کہ وہ ایک ایسی خوشحالی حاصل کرے جس کے نتیجہ میں دائمی اور ابدی مسرتیں اور لذتیں اسے حاصل ہوں اس کے لئے اس نے ہمیں تعلیم بھی دی ہے اور اسلام کے ذریعہ ہم پر اس خوشحالی کی راہیں بھی کھولی ہیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ حقیقی خوشحالی جو دائمی مسرتوں کا موجب ہوتی ہے عرفان الہی کے بغیر ممکن نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت ہی ہے جس کے نتیجہ میں ہمیشہ کی خوشیاں انسان کو مل جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جب حقیقی علم انسان کو ہوتا ہے تو اس کے دو معنی کئے جاتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کا اس پر ظہور ہوا اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کا اس پر ظہور ہوا جس وقت اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات کا کسی انسان پر ظہور