خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 53
خطبات ناصر جلد دوم ۵۳ خطبه جمعه ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء حقیقی نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور عرفان کا ہونا ضروری ہے خطبه جمعه فرموده ۲۳ فروری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ حقیقی نجات کے طالب بنیں اور اس راہ میں ہر قسم کے مجاہدات کرتے چلے جائیں۔نجات کے معنی دنیا نے درست نہیں سمجھے۔مثلاً عیسائی سمجھتے ہیں کہ گناہ کے مواخذہ سے بیچ جانے کا نام نجات ہے اور اس غلط سمجھ کے نتیجہ میں وہ نجات کے لئے مسیح کے خون اور کفارہ کے عقیدہ کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ سب ان کی بھول ہے۔نجات کے حقیقی معنی اس خوشحالی کے ہیں۔جس کے نتیجہ میں دائمی مسرت اور خوشی انسان کو حاصل ہوتی ہے اور جس کی بھوک اور پیاس انسانی فطرت میں پیدا کی گئی ہے۔انسان طبعاً اور فطر تا خوشحالی کا متلاشی ہے۔میں ایک چھوٹی سی مثال آپ کو اپنے ایک نئے نو مسلم جرمن بھائی کے ایک خط کی دیتا ہوں انہوں نے جب ہم فرینکفورٹ میں تھے اس وقت بیعت کی اور اسلام لائے کچھ عرصہ ہوا غالباً دو یا تین ہفتے ہوئے ان کا ایک خط مجھے ملا وہ خط بڑا پیارا ہے اس لئے کہ وہ فطرت انسانی کی آواز ہے اس خط میں انہوں نے لکھا کہ دنیا خوشحالی کی تلاش میں سرگرداں پھرتی ہے