خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 632 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 632

خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۲ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء حقوق کو تسلیم کرتا ہوں ، تم ان کو پورا کرو، دوسرے بنیادی طور پر یہ فائدہ ہوا کہ کسی اور کو یہ حق نہیں پہنچا کہ دخل اندازی کرے یا اعتراض کرے کہ تم کھاتے کیوں ہو، تم پیتے کیوں ہو ، تم اس مکان میں رہتے کیوں ہو، جیسا کہ کسی نے اعتراض کیا تھا تو انہوں نے کہا مجھے خدا کہتا ہے میں کھاتا ہوں، پس حق قائم ہو گیا دنیا کا اعتراض دور ہو گیا۔انسانی نشونما اور انتہائی ترقی اور کمال تک پہنچنے کا دروازہ کھل گیا پھر دوسروں کے حقوق بھی قائم کئے ایک حسین معاشرہ قائم ہو گیا۔ایک ایسا معاشرہ کہ اگر وہ واقعہ میں قائم ہو جائے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانہ میں تقریباً تین سو سال تک قائم رہا تو دنیا میں ایک ایسا عظیم انقلاب بپا ہو جائے کہ روس کا انقلاب اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہ رکھے۔اتنی حیثیت بھی نہ رکھے جتنی ہاتھی کے مقابلہ میں ایک مکھی کی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اگر تم میری عبادت اور اس کے لوازمات کو پورا ر کرو گے، اس کے حقوق کو ادا کرو گے ، تو اس کے نتیجہ میں تم ایک ایسی قوم بن جاؤ گے ذلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ جس کے اوپر کوئی ضعف اور تنزل نہیں آئے گا۔ہلاکت اور فنا نہیں آئے گی اگر تم ان احکام پر عمل کرو جو ان دو چھوٹی سی مختصر آیات میں بیان ہوئے ہیں تو ایک قائم رہنے والی اور دنیا کے مرتبی اور اُستاد بننے والی قوم بن جائے گی۔اگر ہم اپنی تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی پاک صحبت میں اور بعد میں آنے والوں نے دوصدیوں تک ( یعنی پہلی صدی کے بعد آنے والی دوصدیوں میں ) آپ کی قوت قدسیہ اور آپ کے صحابہ سے فیض حاصل کرنے کے بعد ثابت قدمی کا سبق بھی سیکھا۔انہوں نے روح عبادت کو بھی حاصل کیا۔انہوں نے زکوۃ یعنی روح خدمت کو بھی پایا اور اس طرح پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ان تمام حقوق کو ادا کیا اور اس رنگ میں ادا کیا جس رنگ میں کہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ ان حقوق کو ادا کریں خواہ وہ حقوق ان کے نفسوں سے تعلق رکھتے تھے خواہ وہ حقوق ان کے بیوی بچوں سے تعلق رکھتے تھے۔خواہ وہ حقوق ان کے والدین اور اقربا سے تعلق رکھتے تھے ، خواہ وہ حقوق ان کے ہمسایوں یا اہل محلہ یا شہر میں