خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 624
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۴ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء پر گرتی ہے ، وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔۴۳ نماز ظلّ ہے اصل نہیں اصل یہ صلوۃ یہ دعا ہے جو فرض ہے۔جس کی بنیاد پر صحیح اور سچی اور حقیقی عبادت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔پھر فرمایا :۔اور روح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک مصیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے۔جب آستانہ، الوہیت نظر آ گیا، جب خدا تعالیٰ کا قرب ہمیں مل گیا، جب خدا تعالیٰ کے ساتھ جوحی و قیوم اور صفاتِ حسنہ کا مالک اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور بقا اس کی مرضی اور منشا کے بغیر ممکن نہیں اور کسی فرد کو صرف اسی رنگ میں بقا ملتی ہے جس رنگ میں وہ چاہتا ہے۔مثلاً ہمارے جسموں کو اس نے بقا نہیں دی۔لیکن ہماری روح کو اس نے باقی رکھا اور جسم سے زیادہ انعامات کا اسے وارث بنایا تو اس دعا کی جو بنیادی حیثیت رکھنے والی ہے ایک خاصیت یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسانی روح خدا کے ہر حکم کو ماننے کے لئے مستعد رہتی ہے۔اس دعا کی دوسری صفت یا دعا کے نتیجہ میں جو روح میں صفت پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی روح اس دعا کے نتیجہ میں اپنے رب کے حضور جھکتی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف 66 جھک آتی ہے۔اور خدا کے لئے ہو جاتی ہے۔دنیا کے سارے رشتے اور تعلقات فی نفسہا اس انسان کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتے بلکہ اتنی اور اس حد تک اور اس وقت تک کوئی حقیقت ہے جتنی جس حد تک اور جس وقت تک خدا کہے کہ اس حقیقت کو اس تعلق کو قائم رکھنا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے انسان پر بڑی بھاری ذمہ داری ماں باپ کی خدمت کی ، ان کی عزت و احترام کی ، ان کی اطاعت کی اور ان کا کہا ماننے کی ڈالی ہے۔لیکن ایک حد بھی مقرر کر دی۔اگر شرک کی بات کریں، خدا سے ڈوری کی بات کریں تو پھر ان کی بات نہیں مانتی۔اس سے ورے ورے ان کی عزت کرنی ہے، ان کا احترام کرنا ہے ان کی