خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 608

خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۸ خطبه جمعه ۲ رمئی ۱۹۶۹ء پھر قضا کے متعلق ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نظر آتا ہے کہ فیصلے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہی نہ ہوں بلکہ بشاشت سے بھی ہوں إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُةٌ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمرِهِمْ (الاحزاب: ۳۷) جب خدا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہو تو پھر اپنا اجتہاد نہیں کرنا بعض لوگ وہاں بھی اپنا اجتہاد شروع کر دیتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی واضح ہدایات موجود ہیں قرآن کریم میں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یا آپ کی سنت اور اسوہ میں۔اس وقت یہ کہنا کہ یہ پرانے زمانے کی بات ہے اب یہ حکم نہیں چلتا غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی دائگی شریعت میں جو احکام نازل کئے ہیں ان کی پابندی ضرور کرو۔اگر یہ پابندی ہم نہیں کرتے تو پھر ہمارے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے مطابق نہیں۔وہ خالصہ خدا کی اطاعت اور اس کی رضا کے حصول کے لئے نہیں بلکہ ہم اپنی دنیا بسانا چاہتے ہیں اور اس دنیا کو حسین اور منور نہیں بنانا چاہتے جس دنیا کو اللہ تعالیٰ اپنی ہدایتوں اور اپنے انوار کے ذریعہ خوبصورت اور منور دُنیا بنا نا چاہتا ہے۔پس فرمایا اگر تم بشاشت کے ساتھ احکام الہی کے سامنے اپنی گردنیں رکھو گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے ارشادات کو قبول کرو گے تب عبادت کا حق ادا ہو گا ورنہ نہیں ہو گا۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جہاں واضح ارشادات نہ ہوں وہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اجتہاد کی اجازت دی ہے لیکن اجتہاد کی یہ اجازت اس شرط کے ساتھ دی ہے کہ اس میں نفس کی ملونی نہ ہو بلکہ اجتہاد دعاؤں کے ساتھ ہو۔عاجزی کے ساتھ ہو۔پوری کوشش اور محنت کر کے پہلی مثالوں کو دیکھ کر قرآن کریم پر غور کر کے اور احادیث نبوی کو سامنے رکھ کر ہو۔سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُسوہ ہمارے سامنے ہے اپنے فیصلوں کو اس کے مطابق کرنے کی پوری کوشش کرو اور پھر تم اجتہاد کرو تا تمہارا اجتہاد مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کا مصداق ہو۔تمہارا اجتہادی فیصلہ خالصہ اللہ کے لئے اور اس کی اطاعت میں ہو۔تیسری چیز جو قضا کے متعلق بنیادی طور پر ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہے یہ ہے کہ ہر فیصلہ حق وانصاف پر مبنی ہونا چاہیے اگر ہمارے فیصلے حق اور انصاف پر مبنی نہیں تو پھر ہم صرف دنیا ہی کے گناہگار نہیں ہیں بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھی گناہگار ہیں۔ہم اس کی پرستش کا حق ادا نہیں