خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 598
خطبات ناصر جلد دوم ۵۹۸ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء (میرے نزدیک اس وقت سچا مذ ہب اسلام ہی ہے ) حسن اور اسلام کے احسان کو وہ سمجھ ہی کیسے سکتا ہے پہلے لوگوں کو انسان بنانا چاہیے۔انسانی اقدار پیدا کرنے کی جن لوگوں پر ذمہ داری ہے وہ اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور انسانیت دن بدن حیوانیت کی طرف دھکیلی جارہی ہے اور کسی کو اس کی فکر نہیں۔آپ کو اس کی فکر ہونی چاہیے۔یہ سوچنا چاہیے کہ وہ مخلوق جسے اللہ تعالیٰ نے انسان بنایا تھا وہ حیوانیت کی طرف کیوں مائل ہو رہی ہے اور ان کو واپس انسان بنانے کے لئے ہمیں کیا کوششیں کرنی چاہئیں۔پھر آپ میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ کتنی بڑی ذمہ داریاں آپ کے کندھوں پر عائد ہوتی ہیں پہلے ان کو انسان کے دائرہ کے اندر لائیں گے پھر ان کو کہیں گے کہ دیکھو انسان کی روحانی، جسمانی، اخلاقی، دینی اور دنیوی ترقیات کے لئے اسلام نے تمہارے ہاتھ میں کتنی حسین تعلیم دی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے لیکن جب تک ان کے اندر ایک گدھے کی یا ایک بھیڑیے کی یا ایک سانپ کی یا ایک بچھو کی خاصیت رہتی ہے وہ آپ کی بات سمجھ ہی نہیں سکتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ پاگل ہو گئے ہیں جو ہمارے پاس یہ تعلیم لے کر آگئے ہیں۔پس ضروری ہے کہ پہلے ان کو انسان بنایا جائے اور جن پر انسان بنانے کی ذمہ داری ہے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ، وہ محاسبے کی ذمہ داریوں کو نہیں نباہتے۔ہم مسلمان احمدیوں کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے مختلف معانی کے لحاظ سے جتنی ذمہ داریاں ڈالی ہیں ہم ان پر غور کرتے رہیں اور ان کو نباہنے کی کوشش کرتے رہیں۔دو اور ذمہ داریاں ہیں وہ انشاء اللہ اگلے خطبہ میں بیان ہو جائیں گی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ / جون ۱۹۶۹ ء صفحه ۱ تا ۶ )