خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 584
خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۴ خطبه جمعه ۱۸ ۱۷ اپریل ۱۹۶۹ ء ایسے حالات میں تم میں سے جسے جس حد تک غلبہ اور طاقت اور اثر اور نفوذ حاصل ہو وہ اسے اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر دے یعنی وہ اپنے غلبہ اور طاقت کا غلط استعمال نہ کرے بلکہ اس کا ایسے رنگ میں استعمال کرے کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی اسے حاصل ہو اور جو کچھ کیا جائے اس کی اطاعت میں کیا جائے۔ہمارے ہاں کہتے ہیں اللہ مالک ہے ، یہ محاورہ بڑا پیارا ہے حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہی مالک ہے۔اللہ کے سوا وہ کونسی ہستی ہے جو کسی چیز کی بھی مالک ہو اور جو بھی غلبہ اور طاقت ملتی ہے وہ خدا تعالیٰ سے ہی ملتی ہے۔وَاللهُ يُؤْتِي مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ (البقرة: ۲۴۸) اللہ جسے چاہتا ہے طاقت اور غلبہ اور حکومت دیتا ہے۔حکومت سے مراد صرف کسی قوم یا ملک کی بادشاہت نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر ایک گھر کا ایک بادشاہ ہے۔اپنے ماحول کا ایک بادشاہ ہے سکول کا ایک بادشاہ ہے یعنی اپنے اپنے ماحول میں ہر ایک کو طاقت اور غلبہ حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ملک اور طاقت اور غلبہ اور بادشاہت تو اللہ کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کا ملہ سے اپنے بندوں میں سے بعض کو کسی نہ کسی رنگ میں غلبہ یا اثر ورسوخ دیتا ہے۔طاقت عطا کرتا ہے اس لئے تم اس طاقت اور غلبہ اور اثر کو اسی طرح استعمال کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور جس طرح اس نے ایک اور آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ڈیکھ الله رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ (فاطر:۱۴) لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ (التغابن: ۲) یعنی اللہ تعالیٰ رب ہے۔ساری بادشاہت اور غلبہ اور طاقت اس کو حاصل ہے جہاں تک تمہارا تعلق ہے لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ تم اپنی زندگیوں کو اس طرح گزار و کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اور اس کے مالک ہونے کا احساس دنیا میں پیدا ہو اور یہ احساس پیدا ہو کہ وہ تمام تعریفوں کا مستحق ہے کیونکہ جو اس کے بندے بن جاتے ہیں وہ ایسے کام کرتے ہیں کہ انسان کو مجبور ہو کر ان کی تعریف کرنی پڑتی ہے اور جب انسان کو مجبور ہو کر اللہ کے بندوں کی تعریف کرنی پڑتی ہے تو اللہ جس نے اس بندہ کو پیدا کیا کس قدر تعریف اور حمد کا مستحق ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی طاقت کے استعمال میں تمام بدیوں سے اپنے آپ کو اس طرح بچائے کہ انسانی عقل اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ جس اللہ کی