خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 585 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 585

خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۵ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء طرف یہ منسوب ہونے والا ہے اس کی حمد۔اس کی تعریف الفاظ اور بیان سے باہر ہے۔ایسے انسان میں تکبر نہیں پیدا ہوتا کیونکہ جب انسان اس یقین پر قائم ہو کہ تمام طاقت اور غلبہ اور بادشاہت اللہ کی ہے۔وَاللهُ يُؤْتِي مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ (البقرۃ: ۲۴۸) انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کی منشا اور ارادہ سے ملتا ہے تو پھر اس کی اپنی تو کوئی خوبی نہ رہی۔اس لئے اس کی زبان پر اپنی بڑائی کی بجائے لا فخر کا نعرہ ہوتا ہے۔یعنی وہ ہے کہ مجھ میں کوئی فخر کی بات نہیں۔میں اپنے اندر کوئی خوبی نہیں پاتا۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے رحم اور فضل سے مجھے یہ عطا کیا ہے اور ایسا شخص کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جو اللہ کی مخلوق کو دکھ پہنچانے والا ہو۔ایسا انسان کبھی ظالم نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس یقین پر کھڑا ہوگا کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے باپ ہونے کی حیثیت سے، ماں ہونے کی حیثیت سے، ماسٹر ہونے کی حیثیت سے یا پرنسپل ہونے کی حیثیت سے، اپنی جماعت کے صدر یا سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے یا دوسری ہزار حیثیتوں میں ) انسان کو طاقت اور غلبہ ملتا ہے صرف کسی ملک یا قوم کی بادشاہت کی حیثیت سے ہی نہیں۔انسان یہ کہتا ہے کہ یہ طاقت اور غلبہ تو دراصل خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔وہی ہر چیز کا مالک ہے اس نے مجھے طاقت اور غلبہ میں جس کا وہ منبع اور سر چشمہ اور حقیقی مالک ہے اس لئے شامل کیا ہے کہ میں اس کی مخلوق کی بھلائی کے کام کروں۔ایسا انسان ظلم کر ہی نہیں سکتا۔غرض الدین کے ایک معنی غلبہ کے بھی ہیں اور صحیح عبادت کا ساتواں تقاضا یہ ہے کہ وہ غلبہ مخلصين له ہو یعنی خالص اللہ کے لئے انسان اپنے اپنے ماحول میں اپنے غلبہ کا استعمال کرنے والا ہو اور خدا کی حمد کے جذبہ کو انسان کے دل میں پیدا کرنے والا ہو تکبر اور ظلم اور دوسری ایسی بُرائیاں جو اللہ کی طرف منسوب ہونے والوں میں نہیں پائی جانی چاہئیں وہ اس میں نہیں پائی جانی چاہئیں۔باقی حصہ میں انشاء اللہ پھر بیان کروں گا۔روزنامه الفضل ربوه ۱۵ جون ۱۹۶۹ ء صفحه ۲ تا ۶ )