خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 583 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 583

خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۳ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء نظر آئیں یا بعض مستورات سمجھتی ہیں کہ ہمیں ہر روز ایک نیا جوڑا پہننا چاہیے اور یہ نہایت گندی عادت ہے۔اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ غریب طبقہ کے دلوں میں بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔ملک میں ہزار قسم کی خرابیاں اور فساد پیدا ہوتے ہیں۔اگر ضرورت پڑے تو دو تین جوڑوں سے بھی آدمی کام لے لیتا ہے۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ روز نیا جوڑا پہنو ہاں اس نے یہ حکم دیا ہے کہ صاف رہو۔صاف لباس میں ملبوس رہو اور دو جوڑے کپڑے رکھنے والے بھی صاف رہتے ہیں اور میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جن لوگوں کے پاس دس دس جوڑے کپڑے ہوتے ہیں وہ بعض دفعہ اتنے گندے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس بیٹھا نہیں جاتا۔ان کے کپڑوں اور جسموں سے بدبو آ رہی ہوتی ہے۔غرض گندی اور بُری عادت خدا سے دور لے جاتی ہے اور قومی خدمات میں سستی پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے۔جس شخص نے حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر دوکو ادا کرنا ہو اس کے اندر بڑی اور گندی عادت نہیں ہونی چاہیے اگر اس میں بڑی اور گندی عادت ہے تو یا وہ حقوق اللہ کو ادا نہیں کر سکے گا یا حقوق العباد کو ادا نہیں کر سکے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اس بات کا خیال رکھو کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ جو عادت بھی تمہارے اندر پیدا ہو وہ ایسی نہ ہو کہ نیک اعمال میں روک بنے غیر اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے۔حقوق العباد کی ادائیگی میں روک پیدا کرے۔اس کے مقابلہ میں ایسی عادات ڈالوجن کے نتیجہ میں نیک اعمال بشاشت سے سرزد ہوتے رہیں جن کے نتیجہ میں انسان اپنی طبیعت اور عادت سے مجبور ہو جائے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے سر بسجو در ہے اور اس کے ذکر میں محور ہے اور جن کے نتیجہ میں جب اللہ تعالیٰ کے احکام کو دیکھ کر بنی نوع انسان کی ہمدردی جوش میں آئے تو ہرانسانی عادت بنی نوع انسان کی ہمدردی پر اُسے مجبور کر رہی ہو اور قومی خدمت میں ست نہ کر دے۔ساتواں تقاضا اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ہم سے یہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے ماحول میں ایک حاکم کی حیثیت رکھے گا اور وہ اپنے ماحول پر غالب ہوگا۔تم رائی بن جاؤ گے۔