خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 568

خطبات ناصر جلد دوم کے لئے ہو۔۵۶۸ خطبہ جمعہ ۱۱/را پریل ۱۹۶۹ء پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی بیرونی دباؤ کے نتیجہ میں نہ ہو مثلاً جس وقت بچہ اپنے بالغ شعور کو نہیں پہنچتا ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس عمر میں اس پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ نماز پڑھو۔آپ نے فرمایا کہ اگر بچہ دس سال کا ہو جائے تو اس پر دباؤ ڈال کر اس سے نماز پڑھوانی چاہیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ نماز پڑھانے کے لئے بیرونی دباؤ کی اجازت دی گئی ہے غلط ہے کیونکہ دس سال کے بچے کو تو کوئی بالغ شعور ہی نہیں ہوتا وہ اللہ کے حضور عاجزانہ دعا کے لئے علی وجہ البصیرت جھکنے کی بلوغت کو ابھی نہیں پہنچا ہوتا جس کا مطلب یہ ہوا کہ دس سال کے بچے کو تو ہم نے اس پر دباؤ ڈال کر نماز پڑھوانی ہے اور دس سال کی عمر سے لے کر بلوغت صلوۃ کی عمر تک جو درمیانی عرصہ ہے اس میں اسے وہ تعلیم اسلامی اور صحیح تربیت دینی ہے کہ اس کے دل میں نماز کی محبت اور شوق پیدا ہو اور دلی شوق سے وہ نماز پڑھنے لگے۔اس لئے نہیں کہ اس کے باپ نے دس سال کی عمر میں اسے زبر دستی نماز پڑھائی تھی بلکہ اس لئے کہ وہ اس یقین پر قائم ہو چکا ہوگا کہ نماز کے بغیر ، صلوۃ کے بغیر عاجزانہ گریہ وزاری کے ساتھ خدا کے حضور جھکنے اور اسی سے ہر شے طلب کرنے کے بغیر میری زندگی زندگی نہیں۔اگر ہم یہ روح جو نماز کی ہے اور دعا کی ہے اپنے بچے کے اندر پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں یا کامیاب نہ ہوں تو ہمیں یہ نظارہ نظر آئے گا کہ ایک تو وہ بچہ ہے جسے دس سال کی عمر میں بوجہ شعور ،علم اور ذہنی ارتقا کے فقدان کے ہم زبردستی نماز پڑھاتے ہیں لیکن جس وقت وہ بالغ ہوتا ہے تو بعض دفعہ روحانی رفعتوں کے حصول کے میدان۔میں وہ اپنے باپ سے بھی مقابلہ کر رہا ہوتا ہے اور اپنے عاجزانہ مجاہدہ کو اپنے باپ سے بھی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے یعنی ایک قسم کا روحانی مقابلہ ساشروع ہو جاتا ہے تو وہی بچہ جس پر دس سال کی عمر میں نماز کے لئے دباؤ ڈالا گیا تھا وہ ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوکر خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور جھکتا اور اس سے دعائیں مانگتا ہے لیکن مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا ایک وہ بچہ بھی ہے کہ دس سال کی عمر میں ہم نے اس پر دباؤ ڈالا اور نماز پڑھائی لیکن خدا تعالیٰ نے صحیح تربیت کی ذمہ داری جو ہم پر عائد کی تھی وہ ذمہ داری ہم نے پوری نہیں کی وہ دباؤ کے نیچے نماز