خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 542
خطبات ناصر جلد دوم ۵۴۲ خطبه جمعه ۲۱ / مارچ ۱۹۶۹ء اسلام کے قائم کردہ نظامِ زندگی کے بعض پہلوؤں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سوشلزم کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس کے ایک معنی تو اصطلاحی ہیں اور دوسرے عام لغوی معنی ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔اصطلاحی معنی میں سوشلزم اس نظریہ یا اصول کو کہتے ہیں کہ کسی فرد واحد کو انفرادی آزادی حاصل نہ ہو بلکہ تمام افراد کی آزادیاں جو ہمارے نزدیک ان کا حق ہے ساری کی ساری اجتماعی مفادات کے تابع کر دی جائیں۔Socialism principle that individual freedom should be completly subordinated to interests of community۔(The concise Oxford Dictionary) اس بنیادی اور اصطلاحی معنی کے جو نتائج نکلتے ہیں وہ یہ ہیں کہ تمام ذرائع پیداوار حکومت کی یا حکمران طبقہ کی ملکیت ہوں کسی شخص کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ اپنی طبیعت کے رجحان کے مطابق آزادانہ طور پر تجارت یا کوئی اور کام کر سکے یا اپنی اُخروی زندگی کو سنوارنے کے لئے وہ اپنے اموال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں خرچ کر سکے گویا ہر قسم کی آزادیاں فرد واحد سے چھین کر اجتماعی زندگی کے تابع کر دی جاتی ہیں اور اجتماعی زندگی کیسی ہونی چاہیے؟ اس کا فیصلہ حکمران طبقہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس اصطلاحی معنی کے لحاظ سے سوشلزم اور کمیونزم (اشتراکیت) میں کوئی فرق نہیں ہے جیسا کہ خود کمیونسٹ یعنی اشترا کی لیڈروں کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ سوشلزم وہ طریق ہے جو ہم کمیونسٹ اختیار کرتے ہیں اس سلسلہ میں ایک تازہ حوالہ میری نظر سے گذرا ہے میں وہ حوالہ دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک روسی ہیں جن کا نام کرنل اے لیا نیٹر (Col۔A Leontyer) ہے یہ کرنل صاحب روس کے مشہور تنقید کرنے والے لوگوں میں سے ہیں اور روس میں فوجی خیالات کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں انہوں نے پچھلے دنوں کی اخبار میں ایک نوٹ لکھا تھا اس کے بعض اقتباسات روسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کر کے انگلستان کے ایک رسالہ انٹیلی جنس ڈائجسٹ (Intelligence Digest) نے اپنے فروری ۱۹۶۹ء کے ایشو میں نقل کئے ہیں ان کا ایک چھوٹا سا حصہ اس وقت سنانے کے لئے