خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 523 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 523

خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۳ خطبہ جمعہ ۲۱ فروری ۱۹۶۹ء ڈالنے والا ہو اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کا حکم جو وعدہ کے رنگ میں اسے دیا گیا ہے نازل نہیں ہوتا اور بشارتیں پوری نہیں ہوتیں لیکن جو صبر کا نمونہ دکھاتا ہے اور کامل اتباع اور کامل اطاعت کا نمونہ دکھاتا ہے اور سچے طور پر مستقیم بن جاتا ہے اور کسی صورت میں بھی استقامت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بشارتیں عملی رنگ میں اس کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں اور اس دنیا میں بھی اس کے لئے ایک جنت پیدا کی جاتی ہے جس کا وہ احساس رکھتا ہے اور جس کی لذت اور جس کی مسرت سے وہ محظوظ ہوتا ہے۔ہم سے بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ کیا ہے اور وہ وعدہ یہ ہے کہ اگر ہم قرآن کریم کی شریعت کی کامل اتباع کریں گے اور اخلاص کے ساتھ اسلام پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اگر ہم یہ خواہش رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہمارے حق میں، ہماری زندگیوں میں اور ہماری نسل میں پورا ہو تو ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم صبر کا وہ نمونہ دکھا ئیں جو ہم سے پہلوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دکھایا اور ہم مستقیم بن جائیں، ہم استقامت پر کھڑے ہونے والے بن جائیں ، ہم کسی صورت میں کسی مصیبت کے وقت کسی دکھ کے وقت کسی ابتلا کے وقت کسی آزمائش کے وقت کسی طوفان کے وقت اور ساری دنیا کے حملوں کے اوقات میں اپنے خدا کے دامن کو نہ چھوڑیں۔حتٰی يَحُكم الله اس وقت تک جب خدا کا حکم نازل ہو جائے۔اگر ہم اس مقام کو حاصل کر لیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ هُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔اس کا فیصلہ جب نازل ہو جائے گا جب اسلام دنیا میں غالب ہو جائے گا۔جب اللہ تعالیٰ کے وعدے ہماری زندگیوں میں پورے ہو جائیں گے تو ہمارے جسم کے ذرہ ذرہ سے یہ آواز نکلے گی کہ اللہ ہی خَيْرُ الْحَكِمِينَ ہے۔وہی خَیرُ الحکمین ہے اس کے مقابلہ میں کس کی حکومت اور کس کا فیصلہ چلتا ہے۔خدا کرے کہ ہم حقیقی طور پر احمدی مسلمان بن جائیں خدا کرے کہ ہم مستقیم الحال ہو جائیں۔خدا کرے کہ ہمارے مزاج میں وہ اعتدال پیدا ہو جائے جو اسلام انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت پیدا ہو جائے۔ہمیں اس کے فضل سے اس کی عظمت اور اس کے جلال