خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 41
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۶۸ء اس کے مقابلے میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی فطرت مسخ شدہ ہوتی ہے ان کو اس بات کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت نفس عطا کی ہے اور ایک معزز زندگی ہمیں اس دنیا میں گزارنی چاہیے۔اس معنی میں جس معنی میں خدا تعالیٰ نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے یعنی خدا تعالی کی نگاہ میں عزت پانے کے لئے ہمیں ہر قسم کی قربانیاں ہر قسم کی فدائیت کے نمونے پیش کرنے چاہئیں تا کہ ہم اس کی نگاہ میں معزز ہو جائیں ایسی مسخ شدہ فطرت تو عزت کے معنی سے بھی نا آشنا ہوتی ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے اپنے نوکر کو خوب جوتیاں لگا ئیں اس نے کہا کہ جناب میرا استعفی !!!! آج آپ مجھے مجوتیاں ماررہے ہیں کل میری بے عزتی کر دیں گے میں تو یہاں نہیں رہتا یعنی بجوتیاں کھانے سے بھی اس کی عزت میں کوئی فرق نہیں آیا گویا اسے پتہ نہیں کہ عزت کہتے کسے ہیں اور عزت نفس جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے وہ ہے کیا ؟ اس قسم کے لوگ بھی دنیا میں ہوتے ہیں۔منافقوں کے متعلق بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یا آپ کے خلفاء کی اطاعت سے باہر نکلتے ہیں فخر سے یہ کہتے ہوئے کہ ہم بڑے معزز ہیں ہمیں کوئی پروا نہیں۔خدا اور اس کے رسول کی پروا نہیں رسول کے خلفاء کی پروانہیں امراء کی پروا نہیں ، نظامِ جماعت کی بھی پروا نہیں تمہاری عزت پھر کیا رہ گئی؟ تمہاری عزت کو قائم کرنے کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کو بھیجا تھا۔تمہاری عزتوں کی حفاظت کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خلافت کو قائم کیا تھا، تمہاری عرب توں کے محافظ بن کر نظام سلسلہ میں لوگوں کو پرویا تھا تا کہ ہر شخص ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھے۔تمہارا فسوق کی راہ کو اختیار کرنا اور دعوی یہ کرنا کہ اس طرح ہم زیادہ معزز بن جائیں گے ، ایک لغو اور غیر معقول بات ہے ، اللہ تعالیٰ سورۃ فاطر میں فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه وَالَّذِينَ يَمُكُرُونَ السَّيَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَ مَكْرُ أُولَبِكَ هُوَ يَبُورُ - ( فاطر : ١١ ) اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی عزت ملے نیز یہ کہ عزت کا چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے عزت اگر