خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 40 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 40

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۶۸ء گناہ پر قائم رکھتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص کی کوئی عزت نہیں۔کیا وہ صاحب عزبات ہوسکتا ہے جس کے لئے جہنم خدا نے تیار کیا ہو؟ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ جس کے لئے جہنم کافی ہے۔جس نے جہنم میں پڑنا ہے وہ عزت اور فخر سے اپنا سر کیسے اونچا کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے سورۂ دخان میں کہ دنیوی غلبہ اور دنیا کی مقبولیت پر گھمنڈ کرنے والے اور اپنی جھوٹی دنیوی عزت پر فخر کرنے والے کو ہمارے حکم سے فرشتے جہنم کے وسط تک گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور ان کے سروں پر ان کی اصلاح کے لئے گرم پانی ڈالا جائے گا اور ہم اسے کہیں گے ذُقُ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدّخان :۵۰) میرے غضب اور میری طرف سے نازل ہونے والی بے عزتی کو چکھ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيم تو دنیا میں اپنے آپ کو غالب اور عزت والا اور قابل احترام سمجھا کرتا تھا اور عزت کے حصول کے لئے صحیح راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے تو نے غلط راہوں کو اختیار کیا تھا۔ذُقُ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ آج میرے غضب کی جہنم اور ذلت کی جہنم کو چکھ اور یہ بدلہ ہے اس جھوٹی عزت کا جو دنیا میں تو نے اپنے لئے قائم کی تھی۔پس انسان کی فطرت میں صاحب عزت اور قابل احترام بنے کا جذبہ تو یقیناً ہے اور یہ جذبہ ہے بھی بہت اچھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ معزز بنے لیکن اس کی نگاہ میں کسی اور کی نگاہ میں نہیں اور غلط راہوں پر چلنے سے اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے قرآن کریم میں روکا ہے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ناک پر ان کی عزت رہتی ہے ذراسی بات ہو جائے تو کہتے ہیں کہ جی بے عزتی ہو گئی ، بے عزتی ہو گئی۔ایسا شخص بھی عزت کے حقیقی مفہوم کو نہیں سمجھتا اور نہ حقیقی مقام عزت کو اس نے حاصل کیا ہے کیونکہ کسی ایک کے کیا ساری دنیا کے گالیاں دینے سے بھی اس کی بے عزتی نہیں ہوتی جب تک خدا کے فرشتے بھی اس پر لعنت نہ کر رہے ہوں اور اگر وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت دار ہے اور اگر خدا تعالیٰ کے فرشتے اس پر درود بھیج رہے ہیں اور اس کے لئے دعائیں کر رہے ہیں تو ساری دنیا گالیاں دے کیا فرق پڑتا ہے؟ کجا یہ کہ کسی نے ذراسی بات کی اور لڑنا شروع کر دیا گویا اپنے زور سے اس نے اپنے لئے عزت کا مقام حاصل کرنا ہے اپنے زور سے تو حقیقی عزت کا مقام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔