خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء صبر کے ایک معنی مصائب کو خدا کی راہ میں برداشت کرنا اور ان پر گھبراہٹ ظاہر نہ کرنا ہے۔اس کے متعلق سورۃ لقمان میں فرمایا۔وَاصْبِرُ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (لقمان:۱۸) کہ تجھے خدا کی راہ میں جو تنگی و ترشی، دکھ اور مصیبت پہنچے اس پر صبر سے کام لے اور یقیناً یہ بات ہمت والے کاموں میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں ہی کو پسند کرتا ہے جن کے اندر ایک عزم ہوتا ہے جن کے اندر یہ یقین ہوتا ہے کہ میں خدا کے لئے اپنی زندگی گزار رہا ہوں اور جو شخص خدا کے لئے اپنی زندگی کو گزارتا ہے وہ نا کام اور نامراد نہیں ہوا کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بشارتیں اس کے حق میں پوری ہوتی ہیں اور وہی جماعت آخر کا ر دنیا میں کامیاب ہوتی ہے جس جماعت کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کہ وہ اسے کامیاب کرے گا۔خدا تعالیٰ کا آسمانوں پر یہ فیصلہ ہے اور زمین پر اس فیصلے کا اجرا ہوگا کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس فیصلے کے اجرا کے لئے ایک زمانہ مقرر کیا ہے اور اس فیصلے کے اجرا میں ہمیں شامل کرنے کے لئے اور ان بشارتوں کا حامل بننے کے لئے اس نے بہت سی ذمہ داریاں عائد کی ہیں اور ایک مومن ان ذمہ داریوں کی ادائیگی سے گھبراتا نہیں۔وہ سختیوں کو برا دشت کرتا اور مصائب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا اور آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے قادر و توانا رب پر محکم یقین رکھتا ہے اور ان مصیبتوں کو کچھ چیز نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ وقتی اور عارضی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتوں کا جو وعدہ دیا گیا ہے وہ لازوال نعمتیں ہیں وہ عارضی نعمتیں نہیں ہیں۔وہ پائیدار رضا اور خوشنودی الہی ہے۔وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ میں نے کہا ہے کہ صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے۔زبان زیادہ تر اس وقت بے قابو ہوتی ہے جس وقت ایک دوسری بے قابو زبان انسان پر اندھا دھند وار کر رہی ہوتی ہے۔طبیعت میں ایک جوش اور غصہ پیدا ہوتا ہے اور زبان سختی کے مقابلہ میں سختی کی طرف جھک جاتی ہے لیکن ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ ( طه : ۱۳۱) جو کچھ بھی وہ کہتے ہیں تمہیں غصہ تو آئے گا۔تمہارے نفسوں میں