خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 39
خطبات ناصر جلد دوم ۳۹ خطبہ جمعہ ۹ فروری ۱۹۶۸ء ۳۵ ویں آیت میں فرمایا۔اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَ أَعَزُّ نَفَرًا 66 ایک منکرِ خدا نے سمجھا کہ مال اور تعداد میں عزت ہوتی ہے اور کہا کہ میرا مال بھی زیادہ ہے اور ہمارے گروہ کی اور ہمارے قبیلے کی نفری اور تعداد بھی زیادہ ہے اس لئے میں زیادہ عزت والا ہوں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے غضب نے اسے پکڑا اور اس کے مال کو تباہ کر دیا اور اس کی دنیوی عزت کو خاک میں ملا دیا۔پس فطرت کے اس تقاضا کو پورا کرنے کے لئے مال کی طرف ایسے لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا قبیلہ کی نفری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ان پر فخر کر نے لگ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو جب راہِ راست کی طرف خدا اور اس کا رسول بلاتے ہیں تو وہ سَبْعًا وَطَاعَةً نہیں کہتے بلکہ دنیا کی عرب توں کی خاطر دنیا میں فساد پیدا کرتے اور کھیتی باڑی اور مخلوق کو ہلاک کرنے کی غرض سے ملک میں دوڑتے پھرتے ہیں اور اس طرح پر اپنی عزت کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے سرگودہا کے ایک بڑے زمیندار سے ایک دفعہ میں نے (دیر کی بات ہے۔قبل از خلافت ) تبلیغی بات کی تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے کیا مسئلہ سمجھا ئیں گے میں تو سارے مسئلے سمجھا ہوا ہوں۔قادیان کے زمانے سے ہر جلسے پر حاضر ہوتا ہوں تقاریر کو سنتا ہوں اور کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو میں سمجھا ہوا نہیں ہوں۔لیکن آپ یہ تو سوچیں کہ میں اپنے علاقہ کا بہت بڑا چو ہدری ہوں ہم نے اپنی عزت اور چودھر اپے کو قائم رکھنے کے لئے قتل بھی کروانے ہوئے چوریاں بھی کروانی ہو ئیں اور ڈا کے بھی ڈلوانے ہوئے اور اغوا بھی کروانا ہوا۔اگر میں احمدی ہو جاؤں تو آپ کا انگوٹھا میری گردن پر ہوگا اور آپ کہیں گے کہ یہ حرکتیں بند کر دو تو میں جو علاقہ کا چوہدری ہوں میری عزت قائم نہیں رہے گی گویا اس کے نزدیک دنیا کی عزت کے قیام کے لئے فساد کا بپا کرنا ضروری تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ایسے شخص سے کہا جاتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللهَ (البقرة : ۲۰۷ ) کی عزت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تمہیں حقیقی عزت ملے تو وہ اس بات کو سمجھتا نہیں۔اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالاثْم (البقرۃ: ۲۰۷) اپنی جھوٹی عزت کی بچ ایسے لوگوں کو گناہ پر آمادہ کر دیتی ہے اور