خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 495
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۵ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء حفاظت کروں گا۔جب ان کو مدد کی ضرورت ہوگی میں ان کی مدد کے لئے آؤں گا۔جب ان کو ڈھال کی ضرورت ہوگی میں ان کی ڈھال بنوں گا۔جب ان پر دشمن کا وار ہوگا میری قدرت اس وار کو روکے گی اور ان کو تباہ اور نا کام نہیں ہونے دے گی۔ہاں صالح کی آزمائش کے لئے یا اس اظہار کے لئے کہ یہ قوم واقعہ میں صالحین کی قوم ہے میں انہیں آزماؤں گا ضرور۔انفرادی طور پر میں ان سے قربانیاں بھی لوں گا۔ان کے اموال بھی لوٹے جائیں گے ان کے گھر بھی تباہ کئے جائیں گے ان کی جانیں بھی لی جائیں گی اور میری طرف منسوب ہونے والے اور میری گود میں بیٹھ کر اس کی لذت کا احساس رکھنے والے یہ افراد بڑی بشاشت سے اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے تا ان کی قربانیاں اس حقیقت اور صداقت پر مہر بن جائیں کہ ان کے دوسرے بھائی بھی جو اس قسم کا دعوی کرتے ہیں اپنے دعوی میں سچے ہیں ورنہ زبان کے دعوے تو لا یعنی ہوا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ افراد سے قربانی لیتا ہے تا وہ جماعت کے دعویٰ پر مہر تصدیق ثبت کرے اور تا وہ یہ بتائے کہ یہ وہ جماعت ہے جس کا ہر فرد اس کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔اللہ تعالیٰ کی ولایت پر قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری عقل کو بھی تسلی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ میں تمہارا ولی ہوں مگر شیطان بہر حال اپنا کام کرتا ہے اس لئے دل میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہر وقت اور ہر آن ہمیں کیسے ملے گی۔دشمن خفیہ سازشیں کر رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والی جماعت کو ان سازشوں کا علم تک نہیں ہوتا۔بعض ایسے دشمن ہوتے ہیں جو خفیہ ہوتے ہیں اور خدا کی جماعت کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ لوگ دشمن ہیں یا دوست کیونکہ انسان کا علم تو محدود اور ناقص ہے اس لئے قرآن کریم نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِاَعدَ آبِكُم (النساء:۴۶) اللہ تمہارے دشمنوں کو تم سے زیادہ جانتا ہے۔وہ خفیہ دشمنوں کو بھی جانتا ہے اور دشمنوں کی خفیہ سازشوں اور ان کی خفیہ دشمنیوں کو بھی جانتا ہے اور چونکہ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور تم نے اس کو اپنا ولی بنایا ہے اس لئے تمہیں تسلی رہنی چاہیے۔وَ كَفَى بِاللهِ وَلِيًّا وَ كَفَى بِاللهِ نَصِيرًا (النساء: ۴۶) وہ ہستی ہی ولی ہونے کے قابل اور اہل ہے جس کا علم وسیع ہو اور جس کی قدرت میں کوئی نقص اور خامی نہ ہو اور