خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 494
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۴ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء جاتا ہے۔ان کو دکھ دیا جاتا ہے ان کے بزرگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں لیکن وہ اس کے مقابلہ میں خدا کے حضور جھکتے اور دعاؤں کے تیر ان کی طرف واپس کرتے ہیں۔ان دعاؤں میں سے بڑی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب یہ لوگ نا سمجھ ہیں تو ان کو سمجھ عطا کر کہ وہ تیرے بندوں پر ناجائز طور پر ظلم نہ کریں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ان ولی کے اللہ ایک مومن کا مقام یہ ہے کہ وہ مظلوم ہونے کی حیثیت میں جب اس پر انتہائی ظلم کیا جار ہا ہو ظلم کے مقابلہ میں ان راہوں کو پسند نہیں کرتا جو اس کے خدا کو محبوب نہیں۔وہ ان طریقوں پر چلتا ہے جن طریقوں پر چل کر وہ اپنے رب کی رضا کو حاصل کر سکتا ہے۔وہ کہتا ہے اِنَّ وَلِيے اللہ میرا بھروسہ اس آقا پر ہے جس میں تمام صفات حسنہ جمع ہیں اور جس میں کوئی بڑائی اور کوئی نقص اور کوئی خامی اور کوئی کمزوری نہیں اور اس نے میری ہدایت کے لئے ، مجھے اپنی پناہ میں لینے کے لئے اور مجھے دنیا کے ظلموں۔محفوظ کر لینے کے لئے ( نَزِّلَ الْكِتَبَ الْكِتَابَ “ کو نازل کیا ہے اور اس کتاب میں وہ سب سامان جمع کر دئے ہیں کہ جو ایک انسان کو خوشحال زندگی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں ، ایسی خوشیاں جمع کر دی ہیں جو د نیوی غموں کو بھلا دیتی ہیں اور ایسی مسرتیں رکھ دی ہیں جو دنیا داروں کے تیروں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے زخموں میں درد نہیں پیدا ہونے دیتیں۔یہ وہ گروہ ہے جو الكتاب پر عمل کر کے اپنے آقا کی دوستی اور اس کی مدد اور نصرت کو حاصل کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حفاظت اور ترقی اور ربوبیت کی ذمہ داری لیا کرتا ہے جن کی نیتوں میں کوئی فتور نہ ہو اور جن کے اعمال میں کوئی فساد نہ ہو۔جو صالح ہوں اور ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فسادوں سے بچنے والے ہوں اللہ تعالیٰ ان کا متولی ہو جاتا ہے۔ان کی ذمہ داری لے لیتا ہے وہ دنیا کو کہتا ہے کہ تم ان کے خلاف ہر قسم کی سازشیں کر لینے کے باوجود کامیاب نہیں ہو گے اس لئے کہ میرے یہ بندے میری پناہ میں آگئے ہیں۔انہوں نے اپنے نفسوں پر ایک موت وارد کی۔انہوں نے اپنے نفسوں کی اصلاح کی۔انہوں نے ہر قسم کے فساد سے خود کو بچایا یہ میری نگاہ میں صالح بن گئے اور میں ان کا ذمہ دار ہوں۔میں ان کی