خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 493
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۳ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء ان کے سینے تو زخمی ہو جاتے ہیں ان کے جگر تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں ان کے دل تو خون کے آنسو بہاتے ہیں لیکن وہ اس وقت اپنے دکھ دینے والوں کے پیاروں پر اس قسم کے آوازے نہیں کستے بلکہ وہ اپنے مخالف کے دینی یا روحانی پیاروں کے نام بھی عزت اور احترام سے لیتے ہیں اس لئے کہ یہ خدا کا وہ برگزیدہ گروہ ہے جن کے دل اور جن کی روحیں یہ اقرار کرتی ہیں اور جن کی زبان پر یہ جاری ہوتا ہے اِنَّ وَليَّ الله اللہ جو تمام خوبیوں کا مالک، تمام قدرتوں کا منبع اور سرچشمہ ہے میرا مددگار ہے میرا دوست اور میرا آتا ہے۔جب میرا آقا باوجود میرے انتہائی طور پر عاجز ہونے کے مجھ سے دوستوں کا سا سلوک کرتا ہے باوجود میری ہر قسم کی غفلتوں اور کوتاہیوں کے وہ مجھ سے محبت کا سلوک کرتا اور میری مدد پر ہر وقت تیار ہے اور اسی ذات پر میرا بھروسہ ہے تو میں کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جس کی وہ مجھے اجازت نہ دے کیونکہ میں اپنے فہم وفراست کو بت نہیں بناتا۔میں اپنے مال کو بت نہیں بناتا۔میں اپنی جرات و شجاعت کو بت نہیں بناتا۔میں اپنے جتھہ کو یا اپنے اثر و رسوخ کو یا اپنے وقار کو بت نہیں بنا تا بلکہ تمام خوبیوں کا مالک میں اس خدائے واحد و یگانہ کو سمجھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا۔جس نے میری ربوبیت کے سامان کئے جس نے مجھے سے یہ وعدہ کیا کہ اگر تم مجھ پر بھروسہ کرو گے۔اگر تم صرف میری ہی پرستش کرو گے۔اگر تم میرے بتائے ہوئے طریقوں کو اختیار کرو گے اگر تم اس صراط مستقیم پر چلو گے جو میں نے اپنی کامل اور مکمل کتاب کے ذریعے تمہارے سامنے رکھی ہے تو میں تمہارا مددگار ہوں گا۔میں تمہارا حامی ہوں گا۔پس جو شخص خود کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے جو شخص اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اس کی توحید کا عرفان رکھتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک ذاتی محبت اپنے دل میں اور اپنے صحن سینہ میں اپنے رب کے لئے موجزن پاتا ہے وہ غلط راہوں کو اختیار کر کے ظلم میں تسلسل نہیں پیدا کیا کرتا بلکہ یہ وہ گروہ ہے، یہ وہ جماعت ہے جو ظلم کو ختم کر دیتی ہے۔یہ اسے آگے نہیں چلنے دیتے۔چاروں طرف سے ان پر السنَة حِدَاد کے تیر برستے ہیں لیکن وہ چاروں طرف محبت کے کلمے واپس کرتے ہیں۔چاروں طرف سے ان پر آوازے کسے جاتے ہیں اور ان کے سینہ کو چھلنی کیا