خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 482

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۲ خطبہ جمعہ ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء بڑے بزرگ مسلمانوں نے یوں کہا اور یوں کہا یا سچی باتوں کو بدل کے اور ان میں تحریف کر کے پھیلائیں گے تا کہ اسلام پر اعتراض کرنا بعض نا سمجھوں کے نزدیک آسان ہو جائے اور اس طرح شرارت پیدا ہو اور اسلام میں ضعف پیدا ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کے زمانہ میں جب روم فتح ہوا تو وہاں ایک جماعت مسلمانوں کے ساتھ ایسی شامل ہو گئی۔جب ایران فتح ہوا تو مسلمانوں کے ساتھ ایسی جماعت شامل ہو گئی۔جب سپین فتح ہوا تو وہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ایسے لوگ شامل ہو گئے جو مسلمانوں کی طرح لباس پہنے والے، مسلمانوں کی طرح باتیں کرنے والے، مسلمانوں کی طرح اپنے اعتقادات کو قرآن کریم کی تعلیم پر قائم کرنے کا اظہار کرنے والے تھے لیکن تاریخ اس قسم کے فتنوں سے بھری ہوئی ہے۔اندر سے وہ دشمن تھے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے اور کرتا رہا کہ ان کی اسلام دشمنی ظاہر ہوتی رہی اور ہمیشہ ہی وہ خدا کی نگاہ میں اور اس کے پیاروں کی نگاہ میں حقارت کے اور بے عزتی کے مقام کو حاصل کرتے رہے۔اسلام کے لئے جو انہوں نے چاہا اپنے نفسوں کے لئے اسی بے عزتی اور حقارت کو انہوں نے پایا۔ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دشمن کا یہ فتنہ تو جاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی اس سے پاک نہیں رہا آئندہ بھی کوئی زمانہ اس قسم کے شر پسندوں سے پاک نہیں ہوگا۔اس لئے اے مخلصین اُمت مسلمہ ! تمہارے لئے اصولی طور پر ایک ہی ہدایت ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور آپ کے اسوہ اور سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہنا۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تم ایسے لوگوں کے فتنہ سے خود بھی بچو گے اور دوسروں کو بھی بچاؤ گے۔پس سنت نبوی کو تم مضبوطی سے پکڑو۔تم پر یہ فرض عاید کیا گیا ہے کہ ایسے فتنوں سے اپنے نفس کو بھی بچاؤ اور اپنے بھائیوں کو بھی بچاؤ اور کسی قسم کی کمزوری یا گھبراہٹ کا اظہار نہ کرو۔تمہارے دل اس یقین پر قائم ہونے چاہئیں کہ اس قسم کے فتنے الہی جماعتوں کو مضبوط کیا کرتے ہیں انہیں کمزور نہیں کیا کرتے۔