خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 483
خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۳ خطبہ جمعہ ۱۷ جنوری ۱۹۶۹ء دوسرے تمہارا یہ بھی فرض ہے کہ جیسا کہ لَهُم في الدُّنْيَا خِزمی اس دنیا میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے رُسوائی اور بے عزتی اور کم وقعتی کا مقام بنایا ہے۔تمہاری نگاہ میں بھی وقعت کا کوئی مقام انہیں حاصل نہ ہو بلکہ خزمی کا جو مقام خدا تعالیٰ نے اسلام کے دشمنوں کے لئے مقدر کیا ہے اسی مقام پر تم انہیں دیکھو اور ویسا ہی ان سے سلوک کرو اور مطہر نہ سمجھو کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہی نہیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو مظہر سمجھے، قرار دے یا مطہر کے ساتھ جو اس کا سلوک ہے وہ سلوک اس سے کرے اور ہمیں یہ بھی بتا یا کہ تمہیں چاہیے کہ تم اس یقین پر پختگی سے قائم رہو کہ اسلام کے مٹانے یا اس کے کمزور کر دینے کے منصوبے جہاں بھی ،جس رنگ میں بھی کئے جائیں وہ کامیاب نہیں ہوا کرتے جیسا کہ رسول مقبول محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے لا يَحْزُنكَ کا نمونہ دنیا کو دکھایا تھا۔بڑے ابتلا آئے ، فتنے کھڑے ہوئے ، منصوبے کئے گئے لیکن آپ اسی بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں پوری طرح ڈوبے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی محبت کو کامل طور پر حاصل کرتے ہوئے اس دنیا کی زندگی کے دن گزارتے رہے۔پس یہ نمونہ اس میدان میں آپ نے پیش کیا۔اس نمونہ کو سامنے رکھو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کی بشارتوں پر اور اس کے وعدوں پر کامل یقین رکھو۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ وعدہ پورا ہو جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا کہ تیرے روحانی فرزندوں میں ایک عظیم اور جلبیل فرزند پیدا کروں گا جو تیری عزت کو ، جو تیری محبت کو، جو تیری عظمت کو ساری دنیا میں قائم کرے گا اور قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کو اپنے کمال تک پہنچا دے گا۔ہم لوگ اس مسیح ، اس فرزند جلیل کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ہمارے ساتھ بھی یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔اس سے تو ہم بچ نہیں سکتے یعنی یہ نہیں کر سکتے کہ ان کا وجود ہی مٹ جائے لیکن ان کے فتنوں سے بچنا اور اپنے بھائیوں کو بچانا اور آگاہ کرنا اور خود چوکس اور بیدار رہنا ہمارا فرض ہے اور ہمیں اس یقین پر قائم کیا گیا ہے۔اسلام ہی کی آخر کار فتح ہوگی۔تو اس قسم کے فتنے ہمیں بیدار کرنے کے لئے آتے ہیں ہمیں کمزور کرنے کے لئے نہیں آتے اور ہوگا وہی جو خدا نے چاہا