خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 462 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 462

خطبات ناصر جلد دوم ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۹ء اُس دنیا میں بھی ) اس کے فضلوں کے وارث بنیں۔حضرت حافظ مختار احمد صاحب کی وفات پر میں نے بہت دعا کی کہ اے میرے رب ! غلبہ اسلام کی جو مہم تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جاری کی ہے اس کی سرحدوں میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ہمارے کام بڑھ رہے ہیں اور ہماری ضرورتیں زیادہ ہو رہی ہیں۔ہمیں حضرت حافظ صاحب جیسے ایک نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں فدائی اور اسلام کے جانثار چاہیں تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ جہاں جہاں اور جس قدر اسلام کی ضرورت تقاضا کرے تیرے فضل سے اسلام کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی ملتے رہیں تا تکمیل اشاعت ہدایت یعنی اسلامی شریعت کی اشاعت کی تکمیل کا جو زمانہ آج پیدا ہوا ہے اس زمانہ کے تقاضوں کو جماعت پوری کرتی رہے اور اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے اور تمام قو میں اور تمام ملک اور ہر دل خدائے واحد ویگانہ رپ رؤوف و رحیم کو پہچاننے لگے اور اس کی محبت ان کے دل میں پیدا ہو جائے اور وہ جو اس محبت کو قائم کرنے کے لئے سب سے اچھے سامان لے کر آیا اور دنیا کا محسن اعظم ٹھہرا اس کی محبت اور اس کے لئے شکر کے جذبات بھی انسانیت کے دل میں پیدا ہوں تا کہ وہ اس طرح اپنے رب کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ پاسکے۔اس موقع پر میں نے ایک ضرورت کا بھی اظہار کیا ہے۔یعنی غلبہ اسلام کی مہم کی سرحدوں پر ایسے فدائیوں کی ضرورت ہے جو اپنا سب کچھ قربان کر کے اور مثالی زندگی گزارتے ہوئے اسلام کی خدمت میں مشغول رہیں۔میں اپنے مرتی بھائیوں کو آج اسی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی نگاہ میں صحیح موتی بننے کے لئے دو بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک نور فراست دوسرے گداز دل۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میں عقل کے نقص کو دور کرنے والا اور اس کو کمال تک پہنچانے والا ہوں اور اس کی جو خامیاں ہیں وہ میرے ذریعہ دُور ہونے والی ہیں اور اس کے اندھیرے میرے ذریعہ روشن ہونے والے ہیں۔نیز قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میرے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ گداز دل پیدا کئے جائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورہ یوسف