خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 461

خطبات ناصر جلد دوم ۴۶۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۶۹ء ہمیں حضرت مختار احمد شاہجہانپوری جیسے ایک نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں فدائی اور اسلام کے جانثار چاہئیں خطبه جمعه فرموده ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہماری جماعت کے ایک اور سردار (حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ) کل ہم سے جُدا ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔آپ ایک بے نفس خدمت کرنے والے بزرگ تھے جنہوں نے بیماری کی حالت میں بھی بظاہر ایک مختصر سی دنیا میں جو ان کے ایک کمرے پر مشتمل تھی تبلیغ اور تربیت کا ایک وسیع میدان پیدا کر دیا تھا۔آخر وقت تک آپ کا ذہن بالکل صاف اور حافظہ پوری طرح کام کرنے والا رہا اور آپ اس قدر تبلیغ کرنے والے اور اس رنگ میں تربیت کرنے والے بزرگ تھے کہ ہماری جماعت میں کم ہی اس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اليه راجعون یعنی ہم نے اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دیا ہے۔ہم سارے کے سارے اسی کے لئے ہیں۔ہماری زندگی کے لمحات، ہمارے اموال ، ہماری خواہشات ، ہمارے جذبات ، ہمارے آرام سب کچھ اسی کے حضور پیش ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ایک دن ہم اس کے حضور پیش ہوں گے تو وہ ہماری ان حقیر کوششوں کی بہترین جزا دے گا۔اللہ کرے کہ ہمارے اس بزرگ بھائی کو جو اپنے آقا کے پاس پہنچ گیا ہے احسن جزا ملے اور خدا کرے کہ ہم بھی (اس دنیا میں بھی اور