خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 434
خطبات ناصر جلد دوم ۴۳۴ خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۶۸ء حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے احکام بھی دیئے ہیں وہ اس لئے دیئے ہیں کہ ہم جسمانی لحاظ سے بھی اور دنیوی زندگی میں بھی اور روحانی طور پر بھی اور اُخروی زندگی میں بھی فلاح کو حاصل کریں اور ان احکام میں اس بات کو مدنظر رکھا ہے کہ ہمارے لئے تنگی اور مجبوری کے حالات نہ پیدا ہوں اور ایسا نہ ہو کہ انسان کو یہ احساس ہو کہ مجھ میں ان احکام کو بجالانے کی قوت اور طاقت تو نہیں ہے لیکن میرا رب مجھ سے یہ مطالبہ کر رہا ہے۔چونکہ یہاں ہمارا محبوب آقا ہمیں رمضان کے متعلق ہدایات دے رہا ہے اس لئے اس نے دو چیزوں کو ہمارے سامنے رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر تم مریض ہو یا سفر پر ہو تو پھر رمضان کے روزے نہیں رکھنے اور جب ہم اسلام کی اور قرآن کریم کی مجموعی تعلیم پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو اگر تم مریض ہو تو میں نے مریض کے بہت سے حقوق قائم کئے ہیں اور اگر تم سفر پر ہو تو میں نے مسافر کے بہت سے حقوق قائم کئے ہیں لیکن ان تمام حقوق کے باوجود گھر میں جو آرام و آسائش ہے وہ سفر میں نہیں مل سکتا اس لئے میں تمہارے لئے سہولت پیدا کرتا ہوں اور تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم سفر میں ہونے کی حالت میں رمضان کے روزے نہ رکھو جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سہولت کی قدر نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے اس پیار کو نہیں سمجھتا وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس قدر محبت اور پیار کا سلوک ہم سے کیا ہے که انسان شرم کے مارے اپنی گردن جھکا لیتا ہے اور پھر وہ گردن جھکی ہی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پیشانی نیستی کے آثار لئے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے حقوق سفر کا ذکر کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات قرآنیہ کی نہایت ہی حسین تفسیر بیان کی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں یہ فرماتا ہے کہ کامل نیک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے مسافر پر اپنا مال خرچ کرتا ہے سورۂ بقرہ ہی کی آیت ۲۱۶ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے جو اموال تم خرچ کرتے ہو یا دوسری نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہیں مثلاً وقت ہے خدمت کرنے کی اہلیت ہے ( یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں ) اور تم اس